اقوام متحدہ؛ سفیر عاصم افتخار احمد کا بھوک کو دباؤ کے آلہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی شدید مذمت

14

اقوام متحدہ، 17 نومبر ( اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بھوک کو دباؤ کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھوک اور اجتماعی سزا کو اکثر عسکری یا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2417 کی صریح خلاف ورزی ہے۔سلامتی کونسل کے “تنازع سے متعلق غذائی عدم تحفظ” پر کھلے مباحثے میں قومی بیان دیتے ہوئے

 انہوں نے کہا کہ غزہ میں آبادی کا 100 فیصد حصہ شدید غذائی عدم تحفظ کے بلند ترین درجوں کا سامنا کر رہا ہے” اور پوری کی پوری کمیونٹیز “بھوک، محرومی اور موت” کے ایک تباہ کن چکر میں پھنس چکی ہیں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے متحدہ، فوری اور بڑے پیمانے پر عالمی اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے جس میں بھوک کو حکمتِ عملی اور تکلیف کو دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تمام ممالک کو بنیادی انسانی حق—خوراک—کے تحفظ کے لیے قدم اٹھانا ہوگا، تاکہ بھوک جدید تنازعات کی سب سے سفاک کرنسی نہ بن جائے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ اگرچہ حالیہ سفارتی کوششیں معمولی امید فراہم کرتی ہیں، مگر “گزشتہ دو برسوں کی تباہ کاریوں” کا ازالہ جنگ بندی پر سختی سے عمل درآمد، بلا رکاوٹ انسانی رسائی، اور بحالی کے لیے بھرپور عالمی کوششوں پر منحصر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان، کانگو، ہیٹی اور دیگر طویل تنازعات میں بھی اسی نوعیت کے بحران جاری ہیں جہاں تباہ شدہ معاشرے صرف انسانی امداد پر چل رہے ہیں۔