اسلام آباد،03دسمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مشترکہ خوشحالی کے لئے علاقائی روابط کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں سلگتے تنازعات عالمی عمل کے لئے خطرہ ہیں، پاکستان بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ کیلئے کوششوں میں مصروف ہے، جنوبی ایشیا کو وسائل کی تقسیم خاص طور پر دریائی پانیوں پر بڑھتے ہوئے تنازعات کا سامنا ہے، جموں و کشمیر جیسے دیرینہ اور حل طلب سیاسی تنازعات خطے میں امن و استحکام کے لئے خطرہ ہیں، شدید موسمی واقعات اور تیزی سے گلیشیئرز کے پگھلنے نے دنیا بھر میں آبی وسائل، زراعت اور معاش کو متاثر کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (آئی ایس ایس آئی)کے زیر اہتمام دو روزہ اسلام آباد کانکلیو 2025ء بعنوان تھیمیٹک فوکس: ”ری امیجننگ ساؤتھ ایشیا: سیکورٹی، اکانومی، کلائمیٹ، کنکٹیویٹی” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی خالد محمود، آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سہیل محمود، سفارتی کور کے ارکان اور خارجہ پالیسی کے ماہرین، سکالرز، ماہرین تعلیم، پریکٹیشنرز کے علاوہ پاکستان اور خطے کے دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے مقررین نے بھی شرکت کی۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے جنوبی ایشیا کا تصور کرتا ہے جہاں روابط تقسیم کی جگہ لیں، معیشتیں ہم آہنگی سے ترقی کریں، تنازعات کو بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جائے اور جہاں وقار اور عزت کے ساتھ امن برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کی بے پناہ صلاحیتوں کا ادراک کرنے کیلئے تمام رضامند شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں سلگتے تنازعات عالمی عمل کے لئے خطرہ ہیں، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں تنازعات کے ساتھ ساتھ غزہ میں فلسطینیوں کی اسرائیل کی جانب سے نسل کشی سمیت علاقائی بحران بھی حالیہ دنوں کے کچھ تاریک ترین ابواب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 مئی میں 92 گھنٹے کی پاک۔بھارت جنگ میں خطرناک حد تک بڑھنے کا امکان تھا، ریاستوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تنازعات کے حل کیلئے طاقت کے استعمال کا سہارا لیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بروقت جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نائب وزیر اعظم سینیٹر محمداسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے جارحیت کو ناکام بنانے اور ڈیٹرنس کو تقویت دینے کیلئے عزم اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے اسٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو وسائل کی تقسیم خاص طور پر دریائی پانیوں پر بڑھتے ہوئے تنازعات کا سامنا ہے جس کی مثال سندھ آبی معاہدے پر بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اعلان سے ملتی ہے۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر جیسے دیرینہ اور حل طلب سیاسی تنازعات خطے میں امن و استحکام کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا عمل 11 سال سے زیادہ عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک وجودی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات اور تیزی سے گلیشیئرز کے پگھلنے نے دنیا بھر میں آبی وسائل، زراعت اور معاش کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندانہ نظریات، سیاسی پاپولزم، جمہوری پسپائی اور اسلامو فوبیا کا عروج پوری دنیا پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک واضح اور مستقل وژن ہے جس کا محور ایک منصفانہ اور جامع عالمی نظام ہے اور وہ بلاک پالیٹیکس کا مخالف ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ میں کثیرالجہتی کی بھی حمایت کی ہے اور وہ بات چیت اور سفارتکاری، تنازعات کے پرامن حل سمیت بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی کی ناگزیریت پر زور دے رہا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ 2025/2026 کی مدت کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن کی حیثیت سے پاکستان بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ کیلئے کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ جنوبی ایشیا جو عالمی آبادی کا 25 فیصد سے زیادہ آباد ہے، کو غربت، عدم مساوات اور ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ناخواندگی، بیماری، غذائی قلت، آمدنی میں تفاوت، غذائی عدم تحفظ، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شامل ہیں۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے پانی کی سلامتی کو لاحق خطرہ کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے قابل تجدید توانائی، موسمیاتی سمارٹ فارمنگ اور آفات سے نمٹنے کی تیاری میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے، جنوبی ایشیا کو غربت ناخواندگی اور ناگہانی آفات سمیت دیگر چیلنجز درپیش ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت کے چیلنجز سنگین ہوتے جا رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اس وقت بہت بڑا چیلنج ہے، درجہ حرارت میں اضافے اور سیلابوں کے معیشت پر تباہ کن اثرت مرتب ہورہے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا کے خطے کو غربت، ناخواندگی، ناگہانی آفات سمیت دیگر چیلنجز بھی درپیش ہیں۔











