فنِ تعمیر کسی بھی قوم کی ثقافت اور شناخت کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔احسن اقبال

15

لاہور۔6دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ فنِ تعمیر کسی بھی قوم کی ثقافت اور شناخت کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس گہری اور زرخیز تہذیبی وراثت موجود ہے جسے محفوظ، فروغ اور جدید ترقی کے رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہ ہفتہ کے روز ایکسپو سنٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ خود اس کی قومی شناخت کی آئینہ دار ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تاریخی ورثے کو محفوظ بنا کر آئندہ نسلوں کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی تاریخی عمارتیں تو موجود ہیں مگر شہر کی تاریخی شناخت آہستہ آہستہ مٹ رہی ہے، اس لیے روایات کے تحفظ اور جدید طرزِ تعمیر کے امتزاج کو اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے، اس لیے مستقبل کی تعمیرات میں ماحول دوست ڈیزائن اور گرین آرکیٹیکچر کو اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب حکومتیں معیشت نہیں چلاتیں بلکہ مضبوط نجی شعبہ ترقی کا محور بنتا ہے۔ مخلوط حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو معیشت ڈیفالٹ کے قریب تھی، تاہم تدریجی اصلاحات کے ذریعے صورتحال بہتر ہوئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کسی ملک نے اتنی تیزی سے مہنگائی پر قابو نہیں پایا جتنی تیزی سے پاکستان نے پایا ہے، سٹاک مارکیٹ کی بلندی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئی بھی قوم مضبوط معیشت کے بغیر طویل مدت تک مضبوط دفاع برقرار نہیں رکھ سکتی۔ شہدا کے اہلِ خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی ماوں نے وطن کے لیے اپنے بیٹے قربان کیے ہیں، اور جب بھی ضرورت پڑی قوم نے بھارت کو بھرپور جواب دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو ترقی کی جنگ جیتنا ہوگی اور بلند اہداف مقرر کرنے ہوں گے، جب ہم اپنی صد سالہ سالگرہ منائیں تو ہم تین ٹریلین ڈالر کی معیشت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انتشار کے ماحول میں معاشی استحکام ممکن نہیں، اس لیے ہر شعبے میں محنت اور میڈ ان پاکستان کو عالمی برانڈ بنانے کے لیے ملک گیر معاشی لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دے رہی ہے اور ادارے پر بے جا تنقید برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسند عناصر، بھارت میں موجود دشمن قوتیں اور پاکستان کے اندر کچھ کردار ملک کے مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ وہ اور دیگر سیاسی رہنما جھوٹے مقدمات میں جیل گئے مگر کبھی بیرون ملک جا کر پاکستان کے خلاف بات نہیں کی۔ ریاست ہمارا مشترکہ خاندان ہے اور ریاست یا افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے والے سخت کارروائی کا سامنا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح سرگرم ہے، اور خیبر پختونخوا حکومت کے لیے ضروری ہے کہ صوبے میں امن کی بحالی کو اولین ترجیح دے۔