اسلام آباد، 08 دسمبر (اے پی پی): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی، وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، گلگت بلتستان میں صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری سمیت گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی میں درپیش مسائل کو ختم کرنے کے لیے جامع منصوبہ پر فوری عملدرآمد کی بھی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نےخصوصی ہدایت کی کہ گوادر پورٹ سٹی کو بلا تعطل،مناسب قیمت اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی سے کام کریں۔سو میگا واٹ سولر پراجیکٹ سے گلگت بلتستان میں ماحولیاتی اعتبار سےصاف بجلی کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں سو میگا واٹ کے سولر پراجیکٹ پر فوری عمل درامد شروع کرنے کی ہدایت کی ۔
وزیراعظم نے تیار کردہ جامع حکمت عملی میں شامل فوری،قلیل مدتی اور طویل مدتی پراجیکٹس پر وزارت توانائی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے بتایا کہ گوادر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ملکی معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں ترقی کو یقینی طور پر بڑھانے کا سبب بنے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ صنعتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں قائم کردہ صنعتوں کے لیے بجلی کی فراہمی کو علاقائی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جائے۔بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور دیگر سہولیات سے گوادر کی بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ اور مستقبل میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بریفنگ میں بتایا کہ گوادر میں وزارت توانائی کی طرف سے فوری اقدامات کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کو 42 فیصد پہلے ہی کم کیا جا چکا ہے۔ بجلی کی فراہمی میں تعطل ختم کرنے کے بعد، آئندہ چھ ماہ میں گوادر میں فراہم کردہ بجلی کی وولٹیج کو مستحکم کرنے کے لیے بھی جامع پلان ترتیب دیا جا چکا ہے۔گوادر میں گھریلو اور کاروباری صارفین کو بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موثر اور مفید اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ قلیل مدتی پراجیکٹس میں آئندہ آٹھ سے 12 ماہ میں بڑے سرکاری اداروں میں 9.7 میگا واٹ کی سولر کپیسٹی نصب کی جائے گی۔
اس کے علاوہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گوادرکے طویل مدتی پراجیکٹس میں 40 میگا واٹ کا منصوبہ مستحکم بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے نصب کیا جائے گا۔گوادر میں جاری صنعتی اور معاشی ترقی، گوادر کی بندرگاہ اور شہری علاقوں میں توسیع کے باعث آئندہ سالوں میں بجلی کی طلب میں 30 فیصد اضافے کا امکان ہے۔گلگت بلتستان میں سو میگا واٹ کا سولر پراجیکٹ دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں 18 میگا واٹ چھتوں پر سولر پروگرام اور 82 میگا واٹ یوٹیلٹی سکیل سولر پر مشتمل ہے جبکہ گلگت بلتستان میں چھتوں اور یوٹیلٹی سطح پر سولر پراجیکٹ کو 2027 تک مکمل کیا جا ئے گا۔گلگت بلتستان کی حکومت اور وزارت توانائی کے مشترکہ پراجیکٹس سے حکومت کو سالانہ ایک ارب روپے کی بچت ہوگی جبکہ حکومت گلگت بلتستان بجلی کے منصوبوں کے لیے زمین، مواصلات، انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی مقررہ وقت میں یقینی بنائے گی۔











