وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)  کا اجلاس

14

اسلام آباد، 9 دسمبر(اے پی پی ):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)  کا اجلاس منگل کویہاں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں   پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ  گردشی قرضہ مینجمنٹ پلان برائے مالی سال 2025–26 کا جائزہ لیاگیا  جس کا مقصدبجلی کے شعبہ میں  مالی پائیداری اور کارکردگی کو بہتر بنانا تھا۔

ای سی سی  نے پاور ڈویژن کو فنانس ڈویژن کے ساتھ مل کر وسط مدتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی  تاکہ سرکاری مالی معاونت بتدریج کم کی جا سکے۔ کمیٹی نے پاور ڈویژن کوڈسکوز کے ساتھ   فالو اَپ طریقہ ہائے کار  قائم کرنے کی بھی ہدایت کی  تاکہ حکومت سے مقرر کئے گئے اہداف کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔

اجلاس میں  وزارتِ تجارت کی سمری پر  گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری دی گئی   جس کے تحت صرف ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور گِفٹ سکیمیں برقرار رکھی جائیں گی۔ نئے فریم ورک کے تحت ان سکیموں پر کمرشل درآمدی حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات کا اطلاق ہوگا، درآمدی وقفہ دو سے بڑھا کر تین سال کر دیا گیا ہے اور درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک ناقابل انتقال رہیں گی۔

پٹرول اورہائی سپیڈ ڈیزل پرآئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرولیم ڈیلرز کے مارجنز میں ترمیم کی تجویز کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا اوراس کی منظوری دی گئی   مارجنز کو 2023–24 اور 2024–25 کے قومی کنزیومرپرائس انڈیکس  کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا جبکہ اضافہ 5  سے  لے کر10 فیصد کی حد میں رکھا جائے گا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارجنز میں اضافہ کا نصف حصہ فوراً ادا کیا جائے گا جبکہ بقیہ نصف حصہ ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت سے مشروط ہوگا اور پٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ پیش کرے گا۔

اجلاس میں   کلوروفارم کی درآمد پر پابندیوں سے متعلق سمری کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس کوبتایاگیا کہ   یہ زہریلا اور سرطان پیدا کرنے والا مادہ ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ   ٹرائی کلورو میتھین (کلوروفارم) ڈریپ کے این اوسی کے ساتھ صرف دوا ساز کمپنیوں کے ذریعے ہی درآمد کیا جا سکے گا۔

اجلاس میں  میسرزغنی گلاس کی جانب سے آرایل این جی کے رعایتی ٹیرف کے لئے دی گئی درخواست کا جائزہ لیا گیا  اور قرار دیا کہ یہ درخواست ناقابلِ قبول ہے کیونکہ ایسی سبسڈیز اب قابل اجازت نہیں رہیں اور برآمدات کے لئے وسیع تر معاونتی اقدامات پہلے ہی جاری ہیں۔ اجلاس میں   پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی  کے لئے 1.28 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی   تاکہ سرکاری محکموں میں ڈیجیٹل تبدیلی اور تکنیکی جدت کو فروغ دیا جا سکے۔

اجلاس میں  وزارت داخلہ ونارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کی سمری پرمالی سال 2026کے ترقیاتی اخراجات کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں جاری مالی سال کے لئے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کو 5 ارب روپے  کے تکنیکی ضمنی گرانٹ   کی منظوری بھی دی گئی۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سمری پرای سی سی نے پاسکو  کو ختم کرنے اور اس کی باقی ذمہ داریوں کے تصفیہ کے لئے  خصوصی کمپنی بنانے کی منظوری دی۔

 کمیٹی نے کمپنی کے قیام، انتظامی و مالی ڈھانچے، مطلوبہ ریگولیٹری چھوٹ، ابتدائی سبسکرائبرز اور عارضی انتظامیہ کی تقرری کی منظوری دی۔ کمپنی اپنا مینڈیٹ پورا کرنے کے بعد تحلیل کر دی جائے گی۔اجلاس میں پی آئی اے  ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ  کے لئے بجٹ میں مختص رقم کے اجرا ء کی اصولی منظوری بھی دی گئی  تاکہ پی آئی اے سی ایل  کے  ملازمین کے پنشن اور طبی اخراجات پورے کئے جا سکیں۔

وفاقی وزیر  پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر  توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، اور متعلقہ وزارتوں ڈویژنز، اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکرٹریز اور سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔