لیتیئم آئن بیٹریز کی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے پالیسی پر مشاورت جاری

16

اسلام آباد، 17 دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت لیتیئم آئن بیٹری پالیسی کی تشکیل سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صنعت سیف انجم، چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) حماد منصور اور نجی و سرکاری شعبے کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان میں لیتیئم آئن بیٹریز کی مقامی پیداوار اور مینوفیکچرنگ کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خصوصی معاون ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات کی روشنی میں لیتیئم آئن بیٹریز کی مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے ایک جامع پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت لیتیئم آئن سیلز اور دیگر اجزاء درآمد کیے جاتے ہیں جبکہ ملک میں صرف ان کی اسمبلنگ کی جاتی ہے،جس کے باعث مکمل مینوفیکچرنگ صلاحیت کے فروغ کی ضرورت ہے۔

وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجیز کا فروغ توانائی کی بچت، صنعتی استعداد اور پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ پالیسی میں مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات اور مراعات شامل ہونی چاہئیں۔

وزارتِ تجارت کے حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ لیتیئم آئن بیٹریز کے خام مال کی درآمد پر زیرو ٹیکس عائد ہے جبکہ مکمل تیار شدہ بیٹریز پر 12 فیصد ٹیکس لاگو ہے۔ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے لیتیئم آئن بیٹریز کی ٹیسٹنگ، سرٹیفیکیشن اور معیار کی جانچ کے لیے سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

خصوصی معاون ہارون اختر خان نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ پالیسی کی تشکیل کے عمل میں اپنی آراء اور تجاویز دیں۔ انہوں نے تین ورکنگ گروپس کے قیام کا اعلان کیا جو باہمی مشاورت سے لیتیئم آئن بیٹری پالیسی کو حتمی شکل دیں گے۔ ورکنگ گروپس کو دو ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے جدت کو فروغ دیا جائے گا، درآمدات پر انحصار کم کیا جائے گا اور پاکستان کے صنعتی و توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔