اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم ووزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نے کہا ہے موجودہ حکومت کی متحرک پالیسیوں کے باعث آج عالمی برادری میں سفارتی، سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط اور نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے،اہم عالمی امور پر پاکستان کے فعال، اصولی اور مضبوط مؤقف کو عالمی فورمز پر سراہا گیا اور اسے تسلیم کیا گیا،پاکستان کے اصولی مؤقف کے باعث عالمی برادری میں اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
ہفتہ کے روز وزارتِ خارجہ کی سالانہ کارکردگی اور کردار پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے کہا کہ حکومت کی توجہ پاکستان کو معاشی طاقت بنانے پر ہےاور اس مقام کے حصول کے بعد امتِ مسلمہ کی قیادت بھی ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، معدنیات، قیمتی پتھروں اور گیس سمیت بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے ، ریکوڈک جیسے منصوبوں کے ذریعے اورمختلف صورتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آ رہی ہے۔متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات فوجی گروپ میں کچھ حصص حاصل کرے گا، جس سے ایک ارب ڈالر کے واجبات طے ہونے کی توقع ہے، جبکہ دو ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں بھی توسیع ممکن ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات ہوئی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی شمولیت سے استصوابِ رائے ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو او آئی سی، مستقل ثالثی عدالت اور اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں اٹھا رہا ہے اور رپورٹس پاکستان کے مؤقف کے حق میں ہیں،انہوں نے اس سال بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری کو ’’اہم پیش رفت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کے دورے کے دوران چیف ایگزیکٹو، وزیرِ خارجہ اور دیگر مشیروں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں جبکہ خالدہ ضیاء، جماعتِ اسلامی اور طلبہ تنظیموں سے بھی ملاقات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خیرسگالی کا ماحول بنا ہے اور فروری کے انتخابات کے بعد روابط مزید بڑھائے جائیں گے۔
نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 جون کو امن کے قیام میں کردار پر صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا اور صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر سات بھارتی طیاروں کو مار گرائے جانے کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔انہوں نے امریکہ کے ساتھ 13.28 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان پر عائد امریکی ٹیرف جنوبی ایشیا میں کم ترین سطح پر ہے۔انہوں نے ترکیہ، او آئی سی رکن ممالک، چین، یورپی یونین، آسیان، اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور روس سمیت مختلف ممالک اور فورمز پر پاکستان کی قیادت کی شرکت اور ملاقاتوں کا ذکر کیا، جہاں معاشی، دفاعی اور سرمایہ کاری کے متعدد معاہدے طے پائے۔انہوں نے غزہ میں امن اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے پاکستان کے اصولی مؤقف اور کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق مکالمہ، روابط، علاقائی استحکام، معاشی تعاون اور امن کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں جو قومی مفادات سے ہم آہنگ ہیں۔











