پنجاب اسمبلی کا ہر عمل آئین، قانون اور قواعد و ضوابط کے تحت ہوتا ہے، ایوان کو کسی صورت غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل یا بدنظمی کا نشانہ نہیں بننے دیا جائے گا،سپیکر پنجاب اسمبلی

8

لاہور، 29 دسمبر(اے پی پی): سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا ہر عمل آئین، قانون اور قواعد و ضوابط کے تحت ہوتا ہے اور ایوان کو کسی صورت غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل یا بدنظمی کا نشانہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کی اولڈ بلڈنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خان نے واضح کیا کہ اسمبلی میں داخلے، مہمانوں کی آمد اور سکیورٹی سے متعلق واضح ایس او پیز موجود ہیں جن پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پنجاب اسمبلی آنا چاہتے ہیں، جسے انہوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اصولی طور پر اجازت دی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسمبلی میں داخلے کے لیے مہمانوں کے ناموں کی فہرست اور شناختی کارڈ کی فراہمی لازمی ہوتی ہے، کیونکہ پنجاب اسمبلی ریڈ زون میں واقع ایک حساس ادارہ ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسے افراد کو اسمبلی لایا گیا جن کے نام مہمان لسٹ میں شامل نہیں تھے اور بعض افراد ماضی میں دنگا فساد، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حرکت میں آنا پڑتا ہے اور اس طرزِ عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ وہی  لوگ ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات پر بھی ہلڑ بازی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں،حالانکہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں عبادت کے سوا کسی اور سوچ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایسے طرزِ عمل سے نہ صرف مقدس مقامات بلکہ ریاستی اداروں اور جمہوری ایوانوں کے تقدس کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ہنگامہ آرائی اور لڑائی جھگڑے کے واقعے پر انکوائری کمیٹی قائم کرنے اور اس کی رپورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی خلاف ورزی اسمبلی کے انٹری گیٹ پر ہوئی، جہاں قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں وفاق کو مضبوط کرتی ہیں، تاہم اس کے لیے برداشت، مکالمہ اور قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کوئی عام جگہ نہیں جہاں کوئی بھی بلا اجازت داخل ہو سکے۔ اگر کسی کو قانون، پالیسی یا فیصلوں پر اعتراض ہے تو ایوان کے اندر بات کی جائے، گھیراؤ جلاؤ، بدتمیزی اور تشدد کسی کا سیاسی حق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی کہ ایک ہی دن میں درجنوں فوجی تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہو،یہ عوامی ردعمل نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی تھی۔ مقدس مقامات، ایوانوں اور ریاستی اداروں کا تقدس پامال کرنے والوں سے کسی رعایت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے واضح کیا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر بہن بیٹیوں کے خلاف نازیبا زبان، مقدس مقامات کی بے حرمتی اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔