وفاقی وزیر  سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے یورپی یونین کے سفیر برائے پاکستان رائمونڈاس کاروبلس کی ملاقات

9

اسلام آباد۔15جنوری  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے یورپی یونین کے سفیر برائے پاکستان ایچ ای رائمونڈاس کاروبلس نے جمعرات کو یہاں ملاقات کی۔ملاقات میں انسانی حقوق سے متعلق اصلاحات اور ان کے نفاذ کے فریم ورک پر جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے انسانی حقوق کے شعبے میں یورپی یونین کی مسلسل شمولیت اور تعاون کو سراہا۔ انہوں نے وزارت انسانی حقوق اور یورپی یونین کے وفد کے مابین پروگرام ‘‘ پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ کا منصوبہ -مرحلہ دوم /ای یو حقوق پاکستان دوم ’’  کے تحت قریبی تعاون کو اجاگر کیا۔ یہ پروگرام حکومتی انسانی حقوق کے ڈھانچوں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، انسانی حقوق کی تعلیم و آگاہی، کاروبار اور انسانی حقوق، اور موثر پالیسی نفاذ کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔وفاقی وزیر نے نومبر 2025ء میں منعقد ہونے والے جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن کے دوران زیر بحث آنے والے امور کے حوالے سے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین ہونے والی بات چیت سے سفیر کو آگاہ کیا اور جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق (NAP-HR) پر بھی تفصیلی بریفنگ دی جس پر قانونی و پالیسی اصلاحات، انصاف تک رسائی، انسانی حقوق کی ترجیحات کے نفاذ، بین الاقوامی معاہداتی ذمہ داریوں کی تکمیل، قومی اداروں کو مضبوط بنانےاور وفاقی و صوبائی سطح پر موثر نگرانی اور رابطہ کاری کے نظام کے قیام کے ذریعے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اہم قانون سازی اور ادارہ جاتی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے تحفظ اقلیت ایکٹ 2025 کی منظوری اور کمیشن کو فعال بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد، بااختیار اور موثر ادارہ جاتی نظام کے قیام کے حکومتی عزم پر زور دیا۔

یورپی یونین کے سفیر نے پاکستان میں کی جانے والی اہم قانونی اصلاحات کو سراہا جن میں پاکستان پینل کوڈ میں وہ ترامیم شامل ہیں جن کے تحت بعض جرائم میں سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرتے ہوئے عمر قید سے تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے قومی کمیشن برائے تحفظ صحافیان و میڈیا پروفیشنلز کے قیام کو بھی سراہا اور قومی انسانی حقوق کمیشنز کی آزادی اور موثر فعالیت کو یقینی بنانے کی حکومتی کوششوں کی تعریف کی۔وفاقی وزیر نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کی منظوری کو بھی اجاگر کیا جس کے تحت شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے مختلف صوبوں میں کیے گئے چائلڈ لیبر سرویز سے بھی آگاہ کیا۔سفیر کاروبلس نے ان اقدامات کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ مسلسل شراکت داری کے لیے یورپی یونین کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کے ایجنڈے کے فروغ میں پاکستان کی معاونت جاری رکھنے کے لیے یورپی یونین کے پختہ عزم پر زور دیا۔دونوں فریقین نے پاکستان۔یورپی یونین انسانی حقوق مکالمے کے تحت تعمیری روابط اور مثبت نتائج کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ملاقات کا اختتام انسانی حقوق کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان-یورپی یونین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔