اسلام آباد، 21 جنوری (اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ اس سال گنے کی بہتر فصل متوقع ہے، جس سے قیمتوں کے استحکام میں مزید مدد ملے گی۔
بدھ کو انہوں نے قومی اسمبلی کو وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ گزشتہ سال گنے کی فصل موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئی جس کی وجہ سے پیداوار 6.8 ملین میٹرک ٹن سے کم ہو کر 5.8 ملین میٹرک ٹن رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قیمتیں مستحکم کرنے کے لیے تین لاکھ ٹن چینی درآمد کی۔
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے ایوان کو یقین دلایا کہ گندم کی فصل کے اسٹریٹجک ذخائر کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گندم کے کاشتکاروں کو پینتیس سو روپے فی چالیس کلو گرام امدادی قیمت کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو کے پاس گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم پالیسی 2025-26 کے تحت گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت و پیداوار شاہد عثمان نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک سمری وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے بھیج دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، جدید کاری اور تنظیم نو میں تعاون کے لیے ایک روسی کمپنی کے ساتھ دو پروٹوکول پر دستخط کیے گئے ہیں۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے محمد عثمان اویسی نے ایوان کو بتایا کہ ریلوے کی قیمتی اراضی واگزار کرانے کے لیے انسداد تجاوزات مہم شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2024 سے جون 2025 تک پاکستان ریلوے کی 781.84 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔
پوائنٹس آف آرڈر کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ افغان شہریوں کو شناختی سرٹیفکیٹ یا کارڈ جاری کرنے میں ملوث نادرا ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ افغان باشندے رجسٹرڈ یا پاکستانی شہری کے طور پر تسلیم نہ ہوں۔
وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت بہتر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جیل مینوئل کے مطابق ملاقاتوں کی بھی اجازت ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی سے ساڑھے آٹھ سو افراد نے ملاقات کی ہے اور ان میں ان کے خاندان کے افراد اور ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔
دریں اثناء آج ایوان کے سامنے تین بل پیش کئے گئے۔ ان میں شامل ہیں: فوجداری قانون ترمیمی بل، 2026، آئین ترمیمی بل، 2026 اور کمپنیز ترمیمی بل، 2026۔
ایوان کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے دوبارہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔











