لاہور۔24جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ نئی نسل میں ڈیجیٹل ریزیلینس پیدا کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ وہ ڈیجیٹل ذرائع سے آنے والی معلومات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے جانچ سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہورآرٹس کونسل الحمرا میں نویں تھنک فسٹ (افکارِ تازہ) میں منعقدہ پینل ڈسکشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیمی نظام کے ذریعے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ اور معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ناگزیر ہے،ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جامعات کو اس بات کا پابند بنائے کہ طلبہ میں ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی اہلیت پیدا کی جائے۔احسن اقبال نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہے، ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی ضروری ہے،ڈیجیٹل نظاموں کی ہیکنگ نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ عام شہریوں، معیشت اور جمہوری عمل کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کیاجائے تو اس کا غلط استعمال کیا جاسکتاہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی اس سے خطرات میں اضافہ ہوا ہے،آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کسی فرد کی نفسیات اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیٹ فلیکس پر موجود فلم دی گریٹ ہیک ضرور دیکھیں،اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کس طرح لوگوں کے فیصلوں اور رائے کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے،مصنوعی ذہانت کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی ہے کہ جعلی۔احسن اقبال نے کہا کہ وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں، 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور نفرت انگیز مواد پھیلایا، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سے ان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حملے میں چلائی گئی گولی آج بھی ان کے جسم میں موجود اور انہیں روزانہ اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ نفرت اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنا کتنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ نوجوان جیل میں ہے اور نفرت انگیز مواد نے ان کی زندگی تباہ کردی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر افراد میں جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ آسانی سے غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو اور معاشرے میں انتشار کا سبب بن سکتے ہیں۔انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ضرور استعمال کریں لیکن نفرت اور تعصب کے پیغامات سے خود کو دور رکھیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ انفارمیشن وار کے ذریعے ریاست کے اندر شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے،مذہب، لسانیت اور دیگر حساس بنیادوں پر معاشرے کو تقسیم کیا جا سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کوشش کررہی ہے کہ سائبر کرائمز کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومتی اداروں کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک اس حوالے سے اقدامات اٹھارہے ہیں ،آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر کے اپنے شہریوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی ہے۔











