اقوامِ متحدہ، 03 فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سماجی یکجہتی، خیرات اور رضاکارانہ خدمات کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ طویل المدتی اور جامع نگہداشت کے نظام کی تشکیل کے لیے یہ عناصر ناگزیر ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ضمنی اجلاس، کمیشن برائے سماجی ترقی کے موقع پر “سماجی یکجہتی پر مبنی جامع طویل المدتی نگہداشت کا نظام” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دارالعجزہ کا صدیوں پر محیط تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ طویل المدتی نگہداشت کے نظام اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ریاستی ذمہ داری کو خیرات، رضاکارانہ خدمات اور کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہی اصول پاکستان کی سماجی اور اخلاقی روایات سے بھی گہری مطابقت رکھتے ہیں، جہاں یکجہتی پر مبنی نگہداشت نہ صرف عوامی پالیسی بلکہ معاشرتی اقدار کا بھی حصہ ہے۔
یہ ضمنی اجلاس ترکیہ، پاکستان، قطر اور آذربائیجان کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔پاکستان کی حکومتی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے، پاکستان کے مستقل مندوب نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو ملک کے سماجی تحفظ کے نظام کا ایک بنیادی ستون قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ سے مالی اعانت یافتہ یہ پروگرام لاکھوں کم آمدنی والے گھرانوں، بالخصوص خواتین کی سربراہی میں چلنے والے خاندانوں، کو ہدفی نقد امداد فراہم کرتا ہے، جو غربت کے خاتمے، آمدنی کے تحفظ اور سماجی شمولیت کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس واضح پالیسی عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ کمزور طبقات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ وقار اور حقوق کا معاملہ ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان بیت المال کے طویل المدتی کردار کی جانب بھی توجہ دلائی، جو بزرگوں، خواتین، معذور افراد، یتیموں اور ان افراد کی معاونت کر رہا ہے جن کے پاس خاندانی سہارا موجود نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات، جن میں رہائشی نگہداشت مراکز، طبی معاونت، بحالی اور فنی تربیت شامل ہیں، ایک مشترکہ ماڈل کے تحت جاری ہیں، جس میں حکومتی وسائل، زکوٰۃ، فلاحی اوقاف اور رضاکارانہ عطیات شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں منظم فلاحی سرگرمیوں اور رضاکارانہ خدمات کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ روایت کا بھی ذکر کیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کو انسانی خدمت کی ایک عالمگیر علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی عطیات اور رضاکاروں کے ذریعے چلنے والی یہ تنظیم پناہ گاہوں، ایمبولینس سروسز، اولڈ ایج ہومز اور ہنگامی امدادی نیٹ ورکس کے ذریعے معاشرے پر مبنی نگہداشت کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔











