اسلام آباد،03 فروری(اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لذیز قدرتوف کے درمیان منگل کو یہاں ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا اور باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر گزشتہ برس پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 10 فیصد اضافے کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔حکام کے مطابق اس عرصے میں ازبکستان کی پاکستان سے درآمدات میں 12 فیصد جبکہ پاکستان سے ازبکستان برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ بھی کیا۔
فریقین نے ترجیحی تجارتی فریم ورک کے تحت مصنوعات کی فہرست 34 سے بڑھا کر 92 کرنے میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جسے تجارتی سہولت کاری کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔ملاقات میں بتایا گیا کہ اس وقت ازبکستان میں 228 پاکستانی کمپنیاں مختلف شعبوں میں فعال ہیں جبکہ گزشتہ سال 80 نئی پاکستانی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں آئی، جو بڑھتے ہوئے تجارتی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان براہِ راست فضائی پروازوں میں نمایاں اضافے کا بھی جائزہ لیا۔ اسلام آباد اور لاہور سے ہفتہ وار پروازیں جاری ہیں جبکہ کراچی سے پروازیں شروع کرنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، متبادل تجارتی راستوں، شمالی کوریڈور کے استعمال اور پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے مابین مجوزہ “گرین کوریڈور” پر بھی مشاورت کی گئی۔ کان کنی، معدنیات، خوراک اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
دونوں ممالک نے قریبی فالو اپ، ادارہ جاتی تعاون اور بزنس ٹو بزنس روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔











