حکومت کا ویکسین کے شعبے میں انحصار ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات،2031 سے قبل خودکفالت کا ہدف، وفاقی وزیر صحت

13

 

اسلام آباد،04 فروری (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے ویکسین کے شعبے میں انحصار ختم کرنے اور مقامی پیداوار کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 13 بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین مفت فراہم کی جا رہی ہے جن پر سالانہ تقریباً 450 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں جو عالمی اداروں کی معاونت سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2031 تک یہ عالمی معاونت ختم ہو جائے گی اور پاکستان کو اندازاً 1.2 ارب ڈالر سالانہ اپنے وسائل سے ادا کرنا ہوں گے،جس کا بوجھ قومی معیشت برداشت نہیں کر سکے گی۔ اسی چیلنج کے پیش نظر حکومت نے چین،سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ مقامی ویکسین تیاری کے لیے شراکت داری پر کام شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکمل مقامی پیداوار تین سے چار سال میں ممکن ہو سکے گی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مقامی ویکسین سازی سے نہ صرف اربوں ڈالر کی بچت ہو گی بلکہ مستقبل کی نسلوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔