اسلام آباد ،6فروری (اے پی پی): تاشقند میں منعقدہ پاکستان-ازبکستان بزنس فورم کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کاروباری برادری کو دوطرفہ تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرنے والا قرار دیا اور سرمایہ کاروں کے لیے تمام رکاوٹیں دور کرنے کا یقین دلایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بزنس فورم کے نتیجے میں نجی شعبے کے درمیان 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر عمل درآمد اہم پیش رفت ہے اور اس سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تاشقند بزنس فورم کے بعد کیے گئے اصلاحات اور اقدامات کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھ کر 450 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ازبک سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ اور پرکشش سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور انہیں ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ازبکستان میں مارکیٹ کا جائزہ لینے اور سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔ صدر نے کہا کہ بزنس فورم اور معاہدوں پر عمل درآمد سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور 2026ء باہمی تعاون کے فروغ کا سال ہوگا۔
دونوں رہنماؤں نے صحت، توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل، معدنیات اور کان کنی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ازبکستان نے پاکستانی تاجروں کو 10 سال کے لیے ٹیکس میں استثنیٰ دینے اور ٹیکسٹائل، ادویات اور آلات جراحی کے شعبوں میں سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کو عالمی مارکیٹ میں اپنا مقام بنانے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
فورم کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے دستاویزات اور معاہدوں کا تبادلہ کیا گیا، جن میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات، چمڑے کی مصنوعات، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، تاشقند لیدر زون کے قیام اور طبی شعبے میں تعاون شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پروازیں بڑھانے اور تجارتی روابط کو مزید فروغ دینے کا بھی اعلان کیا، جس سے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں نئی پیش رفت متوقع ہے۔











