وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، پولیس اصلاحات کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ

11

لاہور، 15 فروری (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں جامع پولیس اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے عوام دوست پولیسنگ کے فروغ کیلئے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی اجلاس میں کیے گئے جس میں پولیس اصلاحات کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تھانوں کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کیلئے پینک بٹن نصب کرنے، انوسٹی گیشن کے عمل کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ کرنے اور ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ مزید برآں شناختی کارڈ اور کاغذات کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی آن لائن درج کرانے کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو عزت دیتے ہوئے “سر” کہہ کر مخاطب کیا جائے اور پولیس سے متعلق چھوٹی شکایات کو دو سے تین گھنٹوں کے اندر حل کیا جائے۔ انہوں نے ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیمز سے لیس کرنے کی منظوری دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیمز اور 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پنجاب میں مجموعی جرائم میں 48 فیصد جبکہ سنگین جرائم میں 80 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 80 منٹ رسپانس ٹائم سے منفی فیڈ بیک کم ہوا جبکہ ساہیوال اور گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کالز نہ ہونے کے برابر رہ گئیں۔ بتایا گیا کہ ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ شہری تھانوں کا رخ کرتے ہیں جن میں سے 68 فیصد پولیس خدمت مراکز کی سروسز کیلئے آتے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، اور خواتین کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگر خواتین تھانے نہیں آ سکتیں تو موبائل پولیس اسٹیشن ان کے پاس جا کر شکایات کا ازالہ کریں اور ہراسمنٹ کی شکایت کرنے والی خاتون کی تذلیل کے بجائے حوصلہ افزائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے، عوام کو نہیں۔ عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ مشکل وقت میں پولیس ان کی مدد کرے گی۔ انہوں نے پولیس کیلئے ضابطہ اخلاق، تربیت، گرومنگ اور موک سیشنز کے انعقاد کی بھی ہدایت کی۔ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں لین ڈسپلن پر سختی سے عملدرآمد، لین مارکنگ، عوامی آگاہی مہم اور ٹریفک پولیس ون ایپ و سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کے اجرا کا بھی حکم دیا۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام سے بڑھ کر کوئی وی آئی پی نہیں، اور وی آئی پی پروٹوکول کے نام پر شہریوں کی تذلیل ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات کیلئے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم پلان تیار کیا جائے تاکہ نظام میں پائیدار بہتری لائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون کی بلاامتیاز عملداری، شفاف احتساب اور بہتر رویوں کے ذریعے عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کیا جائے گا۔