اسلام آباد، 17فروری(اے پی پی): انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کا جائزہ لے کر اسے حتمی شکل دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری برائے صنعت و پیداوار سیف انجم، سی ای او ای ڈی بی حماد منصور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی تیار کردہ پالیسی فریم ورک پر تفصیلی غور کیا گیا، جو اب منظوری کے لیے وزیرِاعظم شہباز شریف کو پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیرِاعظم کے وژن کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی بڑے پیمانے پر مقامی تیاری کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے موبائل و الیکٹرانکس پالیسی 2026-33 کو صنعتی شعبے کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ملک کی مینوفیکچرنگ بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ایپل اور سام سنگ سمیت عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹس قائم کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ توقع ہے کہ اس پالیسی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
فریم ورک کے اسٹریٹجک ہدف پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانے کا عزم ہے۔
سی ای او ای ڈی بی حماد منصور نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ری فربشڈ موبائل فونز کی ری ایکسپورٹ سے سالانہ 300 سے 400 ملین ڈالر تک آمدن متوقع ہے۔ پالیسی میں مؤثر عملدرآمد اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے اندر ایک خصوصی موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیوائسز سیل قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
حتمی فریم ورک حکومت کے صنعتی جدید کاری، برآمدات پر مبنی ترقی اور پاکستان کو عالمی الیکٹرانکس ویلیو چین میں ایک مسابقتی ملک کے طور پر ابھارنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔











