اقوامِ متحدہ، 20 فروری ( اے پی پی): پاکستان نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی نظام غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے اور ایک ایسی اقوامِ متحدہ کی تشکیل کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں جو واقعی اپنے مقاصد کے مطابق ہو، اصلاحات کی بحث میں خصوصی مراعات اور نئی مستقل نشستوں کے مطالبات کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
بین الحکومتی مذاکرات کے دوسرے اجلاس میں، جس میں “رکنیت کی اقسام” کے موضوع پر غور کیا گیا، خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف مستقل اور دوٹوک رہا ہے: نئے مستقل اراکین کا اضافہ موجودہ مستقل اراکین کے غیر متناسب اثر و رسوخ کو کم نہیں کرے گا بلکہ اسے مزید مستحکم اور وسیع کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دو غلطیاں مل کر ایک درست فیصلہ نہیں بناتیں، اور ایک بڑی اشرافیہ کسی محدود طاقت کے کلب کا حل نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کا دائرہ، خواہ اسے وسعت بھی دے دی جائے، پھر بھی ایک بند دائرہ ہی رہے گا۔ ان کے بقول، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بعض مستقل اراکین اس کلب کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں تاکہ آج کی کونسل میں اپنی فرسودہ حیثیت کو برقرار رکھ سکیں۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، جوابدہ اور نمائندہ بنانے کی کوششوں کے تحت منتخب، غیر مستقل اراکین کی تعداد میں بامعنی اضافے کی تجویز پیش کی، تاکہ P5 کے غیر مساوی اختیارات کا توازن قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ توسیع شدہ کونسل کے اندر طاقت کے توازن کو وسیع تر اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے حق میں منتقل کرنے سے فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت، شمولیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا۔
افریقہ کی جانب سے اصلاح شدہ کونسل میں مستقل نشستوں کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان اس مطالبے کا مکمل احترام کرتا ہے اور اسے سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ مطالبہ پورے خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے پیش کیا گیا ہے، اس لیے یہ ان تجاویز سے بنیادی طور پر مختلف ہے جو انفرادی ریاستوں کے لیے مستقل رکنیت کی خواہاں ہیں اور اس طرح تقسیم کا باعث بنتی ہیں۔
علاقائی بنیادوں پر طویل المدتی مقررہ نشستوں کی تجاویز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اختلافات کم کرنے اور درمیانی راستہ تلاش کرنے کے لیے شریک چیئرز کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تجاویز اس امر کا اعتراف ہیں کہ نئے مستقل اراکین کا قیام قابلِ عمل نہیں، اور اس کے بجائے درمیانی مدت کی منتخب نشستوں، دوبارہ انتخاب اور علاقائی گردش (روٹیشن) پر مبنی ماڈلز کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
ان تجاویز کو تعمیری اور قابلِ غور قرار دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی انتظام عملی طور پر مستقل حیثیت (ڈی فیکٹو پرمیننس) میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں خصوصی مراعات یا اجارہ داری میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں پاکستان نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا کہ ویٹو کے اختیار میں توسیع نہ تو مطلوب ہے اور نہ ہی قابلِ عمل۔
سفیر نے کہا کہ کوئی بھی مؤثر اصلاحاتی ماڈل حقیقی گردش اور منصفانہ علاقائی نمائندگی کو یقینی بنائے۔ ان کے مطابق یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب منتخب، غیر مستقل نشستوں ، بشمول طویل المدتی اور باقاعدہ دو سالہ مدت والی نشستوں میں معقول اضافہ کیا جائے، خصوصاً اُن خطوں کی کم نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس وقت مناسب نمائندگی سے محروم ہیں۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ ذیلی علاقائی اور بین العلاقائی گروپس، بشمول چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک اور تنظیمِ تعاونِ اسلامی)، کے مفادات کو بھی ملحوظ رکھا جائے، جیسا کہ “پیکٹ فار دی فیوچر” میں طے شدہ وعدوں کے مطابق ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان شریک چیئرز اور تمام رکن ممالک کے ساتھ لچک اور تعمیری جذبے کے ساتھ مل کر حقیقی اصلاحات کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔











