لاہور،21فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسلام امن کا داعی اور سیرتِ نبویؐ ہر شعبہ زندگی میں مشعل راہ ہے، پاکستان کی نظریاتی بنیاد سیرتِ نبویؐ کی تعلیمات پر استوار ہے، وسائل کی کمی نہیں ،قومی تعمیر نو کے سفر میں سیرت نبویؐ سے استفادہ حاصل کرنا ہوگا ، قرآن ہمارے لیے پاور ہائوس، اس سے جڑنے کی اشد ضرورت ہے، سیرت چیئرز کا قیام محض ایک تعلیمی اقدام نہیں بلکہ یہ قومی بیانیے کی تشکیل کی ایک سنجیدہ کوشش ہے،مہذب معاشرے میں تشدد و نفرت کی کوئی گنجائش نہیں، نوجوانوں کو سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں اخلاقی قیادت اور ذمہ دار شہری ہونے کی تربیت فراہم کرنا ناگزیر ہے، حکومت اعلی تعلیم کے شعبے میں ایسے اقدامات کی بھرپور سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ سیرتِ نبویؐ کی تعلیمات کو عملی قومی زندگی کا حصہ بنایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز سیرت سنٹرز میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سیرت چیئرز کے قومی فکری و اخلاقی تعمیر اور معاشرے میں پائیدار امن کے قیام میں کردار کے حوالے سے منعقد نیشنل سیمینار میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق ،وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس، ڈاکٹر محمد سرور صدیق ،ڈین ، ڈائریکٹرز، محققین ،ملکی و غیر ملکی تعلیمی اداروں کے اساتذہ سمیت طلبہ و دیگر کی کثیر تعداد موجود تھی ۔وفاقی وزیر نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سیرت چیئرز کے کردار کو قومی فکری و اخلاقی تعمیر کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ سیمینار محض ایک روایتی علمی نشست نہیں ،اس طرح کے سیمینار منعقد کرانے پر انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ، پاکستان کی نظریاتی بنیادسیرتِ نبویؐ کی تعلیمات پر استواراور اسی میں پائیدار امن و ترقی کا راستہ پوشیدہ ہے، ہمیں آج کے دن اس عہد کا اعادہ کرنا ہو گا کہ سیرت نبوی ۖکو قومی تعمیر نو کے سفر میں بروئے کارلا کر بطور مسلم اقوام عالم میں دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا اورہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے کہاں جانا ہے ،ایک مہذب اور جدید معاشرے کا حصہ بننا ہے یا کہ نفرت اور تشدد پر مبنی معاشرے کا ۔انہوں نے کہا کہ مہذب قوموں میں انتشار اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ،اللہ تعالی نے ہمیں بے شمارنعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے،نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ،ان تمام وسائل و نوجوانوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود ہم معاشرے میں نفرت ، تعصب واخلاقی معاملات بھی گراوٹ کا شکار ہیں ۔انہوں نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ ماضی قریب میں میں بھی اس نفرت سے تشدد کا نشانہ بنا ،جب ایک نوجوان نے سوشل میڈیا پر نفرت اور تعصب کے مواد سے متاثر ہو کر مجھ پر گولی چلا دی،میں تو اللہ کے حکم سے بچ گیا لیکن اس نوجوان کا مستقبل تاریک ہو گیا،جس کا مجھے ابھی تک افسوس ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کیا نبی پاکؐ سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ نفرت پھیلائی جائے، سڑکوں پر انتشار کیا جائے ،سیرتِ طیبہ میں برداشت، عدل، رواداری اور احترامِ انسانیت کے اصول ایسے عالمگیر ضابطے ہیں جو آج کے دور میں شدت پسندی، نفرت اور تصادم کے رجحانات کا موثر جواب فراہم کرتے ہیں،جامعات میں سیرت چیئرز نوجوان نسل کو یہ شعور دیتی ہیں کہ اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ مکالمے اور حکمت سے حل کیا جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ جب تعلیم، تحقیق اور قومی پالیسی سیرتِ نبویؐ ۖ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو جائیں تو معاشرے میں امن، برداشت اور اجتماعی ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میثاقِ مدینہ انسانی تاریخ کا پہلا تحریری سماجی معاہدہ تھا جس نے مختلف مذاہب اور قبائل کے درمیان بقائے باہمی اور شہری حقوق کا تصور دیا۔ اسی طرح صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ حقیقی قیادت انتقام کے بجائے درگزر اور مفاہمت کو ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت چیئرز ان تاریخی اصولوں کو جدید ریاستی و سماجی نظم کے ساتھ جوڑ کر امن، انصاف اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اعلی تعلیم کے شعبے میں ایسے اقدامات کی بھرپور سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ سیرتِ نبویؐ کی تعلیمات کو عملی قومی زندگی کا حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہا کہ سیرت چیئرز کا قیام محض ایک تعلیمی اقدام نہیں بلکہ یہ قومی بیانیے کی تشکیل کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، ملک خداداد کو ایک پرامن، ترقی یافتہ اور علم پر مبنی معاشرہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں اخلاقی قیادت اور ذمہ دار شہری ہونے کی تربیت دی جائے، سیرت چیئرز اس مقصد کے لیے تحقیق، نصاب سازی اور فکری مکالمے کے ذریعے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہاکہ اسلام ایک ہمہ گیرمذہب اور امن کا داعی ہے، کسی ایک مذہب کا ہی نہیں بلکہ اقوام عالم کو درپیش مسائل کا حل سیرتِ نبویؐ پر عمل پیرا ہونے میں ہے،حضرت محؐمد نے اپنے اخلاق اور عمل سے ایک زوال پذیر معاشرے کو نور سے منور کیا، جب تک مسلمانوں نے سیرت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائے رکھا ،انہوں نے سائنس،ٹیکنالوجی ،علم سمیت ہر شعبہ زندگی میں حکمرانی کی،اگر اس وقت نوبل انعام دینے کا رواج ہوتا تو تمام نوبل انعامات صرف اور صرف مسلمانوں کے ہی پاس ہوتے ،لیکن بدقسمتی سے بطور مسلمان ہم نے سیرتِ نبویؐ کو چھوڑدیا جس سے آج ہم دنیا میں خوار ہورہے ہیں ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں اپنے اسلاف کے عروج سے زوال کی وجوہات پر غور کرنا ہو گا، قرآن اور سیرتِ نبویؐ میں نعوذ باللہ کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ ہمارے طرز عمل میں تبدیلی آ گئی ہے ،میرا ایمان ہے کہ سیرتِ نبویؐ کی بدولت ساتویں صدی میں اگر انقلاب برپا ہو سکتا ہے تو آج 20 ویں صدی میں بھی سیرتِ نبویؐ اور قرآن پر عمل پیرا ہو کر دوبارہ کھویا ہوا مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس قرآن ایک پاور ہائوس ہے ،ہمیں پوری دنیا میں علم کے اعتبار سے آگے ہونا چاہیے تھا، لیکن ہمارے دلوں کو زنگ لگ چکا ہے ،ہم اس پاور ہائوس کا صرف دور سے ہی مشاہدہ کرتے ہیں جبکہ ہمیں اس پاور ہاس سے جڑنے کی ضرورت ہے ،بقول شاعر”کی محمد ؐسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں۔احسن اقبال نے کہاکہ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ، بس سیرت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ، ایچ ای سی کو ہدایت جاری کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں ہونا چاہیے بلکہ حاصل کئے گئے اس علم کا عمل ہماری زندگی کے ہر شعبے میں نظر آنا چاہیے ،اس کے ساتھ ساتھ ہمیں صرف مقالے نہیں تحقیق کرنا ہو گی۔انہوں نے کہاکہ سکول سے باہر ڈھائی کروڑ بچوں کو سکول لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کا ر لائے جا رہے ہیں ،اڑان پاکستان منصوبہ میں علم کو مرکز رکھا گیا ہے، آج کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سیرتِ نبویؐ کو سامنے رکھتے ہوئے جدید نصاب ترتیب دیا گیا تاکہ سیرتِ نبویؐ کی عالمی سطح پر آگاہی فراہم کی جا سکے،سیرت چیئرز پاکستان کے فکری تشخص اور عالمی سطح پر امن کے پیغام کو اجاگر کرنے کا موثر ذریعہ ہورہی ہیں۔وائس چانسلر نارووال یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ حکومت کی طرف سے طلبہ کو جدید تعلیم اور سکلز سے بہرہ مند کرنے کے لیے اقدامات قابل ستائش ہیں ،ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات میں سیرت چیئرز قائم کیں تاکہ نبی اکرم حضرت محمد ؐ کی حیاتِ طیبہ کی روشنی میں جدید دور کے فکری و سماجی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ ان سیرت چیئرز کا بنیادی مقصد سیرتِ نبویؐ کی امن، رواداری، عدل اور انسانی احترام پر مبنی تعلیمات کو علمی و تحقیقی انداز میں عام کرنا ،بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ،نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت کرنا اور معاشرے میں پائیدار امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب دنیا انتہاپسندی، نفرت اور تصادم جیسے مسائل سے دوچار ہے، سیرت چیئرز کا پیغام امن و انسانیت ہی پائیدار عالمی اور قومی امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔سیمینار سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔قبل ازیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ادارے کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا ۔سیمینار میں محقیقین نے سیرت اسٹڈیز کے حوالے سے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے جس میں انہوں نے ذاتی آرا و سفارشات پیش کیں اور تعلیمی اداروں میں سیرت سنٹرز کے قیام پر زور دیا۔ آخر میں وفاقی وزیر نے سیمینار کے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کیں۔











