پاکستان ایران تعلقات بدلتے ہوئے خطے میں پائیدار شراکت داری قرار

11

اسلام آباد، 24 فروری (اے پی پی ): انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے سنٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ نے ایمبیسیڈر پلیٹ فارم کے تحت “پاکستان ایران تعلقات: بدلتے ہوئے خطے میں پائیدار شراکت داری” کے عنوان سے عوامی مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، چیئرمین بورڈ آف گورنرز انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد سفیر خالد محمود اور ڈائریکٹر سنٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ ڈاکٹر آمنہ خان نے خطاب کیا۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک طویل سرحد، مضبوط عوامی روابط اور تکمیلی معاشی ڈھانچوں کے باعث وسیع تعاون کے مواقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے فلسطین سمیت علاقائی و عالمی امور پر ہم آہنگ مؤقف اور دہشت گردی و علیحدگی پسندی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں پچیس اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں اور مختلف شعبوں میں پچیس معاہدوں سے تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

سفیر خالد محمود نے کہا کہ پاکستان اور ایران تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے برادر ممالک ہیں اور ایران نے قیام پاکستان کے فوراً بعد اسے تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض اوقات تعلقات میں مشکلات آئیں لیکن دونوں ممالک دہشت گردی اور فرقہ واریت جیسے چیلنجز کے باوجود باہمی تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔

ڈاکٹر آمنہ خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی وابستگی، جغرافیائی قربت اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں اور افغانستان و غزہ سمیت اہم امور پر نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان نے ایران کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی تھی۔

تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی اور اختتام سوال و جواب کے سیشن پر ہوا۔