تعلیم، اعداد و شمار اور نوجوان آبادی قومی مستقبل کی کنجی ہیں، خالد مقبول صدیقی

14

اسلام آباد، 26 فروری (اے پی پی): وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ تعلیم، اعداد و شمار اور نوجوان آبادی قومی مستقبل کی کنجی ہیں اور کہا کہ آج کی دنیا حقیقی معنوں میں ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے اور بگ ڈیٹا ہمیں مسلسل متنبہ کر رہا ہے کہ اگر ہمارے اعداد و شمار درست نہیں ہوں گے اور ہم انہیں سیاسی وضاحتوں کے لیے استعمال کرتے رہیں گے تو یہ طرز عمل مزید قابل قبول نہیں رہے گا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں میڈیا سے گفتگو کر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا بلکہ پورا خطہ مل کر آگے بڑھتا ہے۔ انہوں نے یورپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کبھی بوجھ نہیں ہوتی بلکہ اسے اثاثہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمارے دین کی ابتدا لفظ اقرا سے ہوتی ہے اور علم ہر مرد اور عورت پر فرض ہے، اسے اختیاری نہیں بنایا جا سکتا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مردم شماری اور مردم شناسی کے عمل میں خواتین اور بچیوں کی تعلیم پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک میڈیکل جامعہ میں بانوے فیصد طالبات زیر تعلیم ہیں مگر ان میں سے اسی فیصد عملی میدان میں شامل نہیں ہو پاتیں جو ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں گنجائش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور ذہنوں میں بھی گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم تقدیر کے نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کے ہاتھوں مجبور ہیں اور جہالت کے خلاف جدوجہد ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں چودہ سے اٹھارہ کروڑ نوجوان موجود ہیں جو کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہیں،  اب تاریخ یہ طے کرے گی کہ ہم نے اس نوجوان آبادی کو بوجھ بنایا یا قومی اثاثہ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ برین ڈرین کا شور مچانے کے بجائے ہمیں برین ٹرین پر توجہ دینی چاہیے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں نے بیرون ملک جا کر تربیت حاصل کرنے والوں سے فائدہ اٹھایا اور اپنی تقدیر بدلی۔ انہوں نے کہا کہ جدید دنیا کی ترقی یافتہ اقوام عمر رسیدہ ہو رہی ہیں اور انہیں نوجوان افرادی قوت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر بڑی کمپنیوں نے ڈگری کی شرط ختم کرنا شروع کر دی ہے اور اب مہارت اور درست اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کس نوعیت کی تعلیم دینی ہے اور کس شعبے میں افرادی قوت تیار کرنی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اعداد و شمار کی روشنی میں طویل المدتی منصوبہ بندی اور فوری مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا اور اس جدوجہد کا آغاز ہر فرد کو اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔