ایران پر حملے اور جوابی کارروائیاں علاقائی سلامتی کےلئے نقصان دہ، دور رس نتائج برآمد ہوں گے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں انتباہ

17

اقوام متحدہ،1مارچ  (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور اس کے بعد جوابی کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کو کمزور کریں گی اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب  عاصم افتخار احمد  نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم علاقائی تصادم کے خطرے پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ یہ اجلاس فرانس، چین، روس، بحرین اور کولمبیا کی درخواست پر طلب کیا گیا ۔

پاکستانی مندوب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ یہ مشترکہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں  ، انہوں نے ان حملوں کو  بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار  دیاتاہم   ایران کی جانب سے سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی بھی مذمت کی اور ان ممالک سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔

انہوں نے عمان کے کردار کو سراہا جو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری اور ثالثی کر رہا تھا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں حملے کے دوران ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کی مذمت کی ۔

پاکستانی مندوب نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ  فوری طور پر کشیدگی کم کر کے سفارت کاری کا راستہ اپنائیں اور ایسے مزید اقدامات سے گریز کریں جو خطے کے ممالک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے   اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ریاست کسی دوسرے ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہے۔

انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر  حملوں اور اس کے بعد ایران کی جانب سے بحرین، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی۔

انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ  ہم بین الاقوامی امن و سلامتی کو سنگین خطرے کی صورت حال کا سامنا کرتے دیکھ رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل کے مطابق ایران کے تقریباً 20 شہروں بشمول تہران، اصفہان، قم، شہریار اور تبریز کو نشانہ بنایا گیا  جبکہ تہران میں صدارتی محل کے قریب شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔انہوں نے  افسوس کا اظہار کیا کہ عمان کی ثالثی میں ہونے والے امریکا۔ایران بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد سفارت کاری کا موقع ضائع ہو گیا۔

انہوں نے فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور خاص طور پر ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی میز پر واپسی پر زور دیا۔پاکستان نے اعادہ کیا کہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے پیش نظر تنازعات کا پرامن حل، مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔