قدرتی وسائل کو معاشی ترقی کا ذریعہ ہونا چاہیے نہ کہ جبر یا تنازع کا ہتھیار ، سفیر عاصم افتخار احمد

15

نیویارک، 06 فروری ( اے پی پی) : اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں “توانائی، اہم معدنیات اور سلامتی” پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ قدرتی وسائل کو معاشی ترقی کا ذریعہ ہونا چاہیے  نہ کہ جبر یا تنازع کا ہتھیار  انہوں نے خبردار کیا کہ معدنیات کی طلب میں اضافے سے پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی دباؤ کو اگر ذمہ داری سے منظم نہ کیا گیا تو یہ سپلائی چینز اور عالمی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔

سفیر نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو “آبی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور اگست 2025 کے عدالتی فیصلے کی پاسداری پر مجبور کرے۔

 انہوں نے پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو محض خام مال برآمد کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور “ویلیو ایڈیشن” کے ذریعے صنعتی مراکز میں تبدیل ہونے کا حق دیا جائے، جبکہ سپلائی چینز کو بلاک سیاست یا معاشی جبر کا ذریعہ بننے سے روکا جائے۔

سفیر عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے معدنی وسائل کی شفاف اور ذمہ دارانہ ترقی کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں جیالوجیکل میپنگ اور لائسنسنگ کے نظام کو جدید بنا رہا ہے تاکہ ان وسائل کو سماجی و صنعتی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔