اسلام آباد، 06 مارچ (اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت پاکستان۔ازبکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے نئے مواقع تلاش کیے گئے۔
یہ اجلاس پاکستان۔ازبکستان مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت کا دوسرا اجلاس تھا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا اور باہمی تجارت کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری تجارت جواد پال کے علاوہ مختلف وزارتوں اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشتوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور تجارت کے فروغ، تجارتی راستوں کی بہتری اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت کو نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ (2026 تا 2030) پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ازبکستان کے ساتھ طے شدہ پروٹوکولز پر عملدرآمد بھی اسی اسٹریٹجک روڈ میپ کے ذریعے کیا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جس سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مختلف شعبوں کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کی غرض سے آٹھ ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں،جن میں سے ہر ایک کو اپنے متعلقہ شعبے کے لیے تفصیلی روڈ میپ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے،جو اجلاس میں پیش کیے گئے۔ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ ازبکستان کے لیے چین کے ذریعے متبادل تجارتی راستہ نسبتاً مختصر اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں دونوں ممالک نے توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ علاقائی رابطہ کاری کو بڑھانے اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کو تیز کیا جائے۔
ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ علاقائی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقتصادی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔











