جمہوریہ کانگو کی بگڑتی صورتحال پر پاکستان کی فوری جنگ بندی اور اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے مؤثر کردار کے فروغ کی اپیل

12

اقوامِ متحدہ، 26 مارچ ( اے پی پی): پاکستان نے جمعرات کے روز جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے مشرقی علاقوں میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اے ایف سی/ایم 23 کی جاری عسکری کارروائیاں اور علاقائی پیش قدمی امن کوششوں پر اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور مونوسکو  کے مینڈیٹ پر عملدرآمد کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے زمینی حالات کو فوری طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں مونوسکو ایک غیرجانبدار فورس کے طور پر امن کوششوں میں معاونت اور شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ پاکستان کو خاص طور پر شمالی اور جنوبی کیوو کی صورتحال پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دوحہ فریم ورک اور واشنگٹن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کے باوجود اے ایف سی/ایم 23 اپنی عسکری کارروائیاں اور علاقائی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2773 پر مکمل عملدرآمد پر زور دیا، جس میں جنگ بندی، ایم 23 کا زیر قبضہ علاقوں سے انخلا، اور ڈی آر سی کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام شامل ہے۔

پاکستان نے جنگ بندی کی نگرانی اور تصدیق کے انتظامات کو فعال بنانے میں پیش رفت کا بھی نوٹس لیا، جس میں ایکسپینڈڈ جوائنٹ ویریفیکیشن میکنزم (Expanded Joint Verification Mechanism ) کی شرائطِ کار پر اتفاق اور مونوسکو کی جانب سے ابتدائی تیاریوں کا آغاز شامل ہے، جیسا کہ قرارداد 2808 میں مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی سطح پر تاحال حقیقی جنگ بندی قائم نہیں ہو سکی۔

اس تناظر میں انہوں نے سیکرٹری جنرل کے اس مؤقف کی حمایت کی کہ مونوسکو کے ممکنہ کردار کو مرحلہ وار اور حالات سے مشروط انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی جانب سے بیان کردہ بنیادی شرائط—خصوصاً نقل و حرکت کی آزادی، اہم تنصیبات تک رسائی، اور امن دستوں کی حفاظت کو پورا کرنا ضروری ہے تاکہ مونوسکو مؤثر انداز میں نگرانی کا کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن دستوں کا تحفظ ہر فیصلہ سازی کا مرکزی نکتہ ہونا چاہیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے ہنگامی منصوبہ بندی میں کٹوتیوں کے عملی اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2,674 فوجی، عسکری ماہرین، پولیس اہلکار اور سویلین عملہ واپس بلایا یا کم کیا جا چکا ہے، جبکہ سلامتی کونسل کی منظور کردہ 11,500 نفری میں سے صرف 7,879 اہلکار ہی اس وقت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفری، سویلین عملے، اور انٹیلی جنس و نگرانی کی صلاحیتوں میں کمی نے مشن کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے اور امن دستوں کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مونوسکو کو دی جانے والی کسی بھی اضافی ذمہ داری، بشمول ممکنہ جنگ بندی نگرانی، کے لیے متناسب وسائل اور صلاحیتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مونوسکو کا تجربہ، لاجسٹک صلاحیت اور اہم آبادی مراکز میں موجودگی نہایت اہم ہے، اور مناسب حالات میں جنوبی کیوو سمیت مشن کے مضبوط کردار کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے افریقی یونین کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ قطر، امریکہ اور عظیم جھیلوں کے خطے کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کاوشوں کی بھی حمایت کا اعادہ کیا، جو ڈی آر سی کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر مبنی ہیں۔