وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار کا مالیاتی اداروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

10

اسلام آباد ،27 مارچ( اے پی پی): وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے ملک بھر کے مالیاتی اور ترقیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ایس ایم ای ترقیاتی وژن کے تحت مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کے لیے قرضوں کی آسان اور وسیع دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

کلیدی مالیاتی اداروں کے ایک مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے،وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کو ہدایت کی کہ وہ ایس ایم ایز کیلئے  قرضو ں کی فراہمی کو بڑھانے کیلئے  تمام صوبائی حکومتوں، بینکوں اور مالی  ترقیاتی اداروں کے اشتراک عمل کو فروغ دیں۔اور اس ضمن میں بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور آزاد جموں و کشمیر جیسے کم مراعات  کے حامل علاقوں کو خصوصی ترجیح دی جائے۔

ہارون اختر خان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سمیڈا کو تمام مالیاتی  اور کاروباری ترقیاتی  اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ عملی اشتراکی پروگرام تشکیل دینے چاہییں تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو کریڈٹ تک رسائی حاصل ہو اور ان کے کاروباروں کو وسعت مل سکے- انہوں نے اس سلسلے  میں سمیڈا کو  باہمی تجربے، تربیت کاری اور رابطوں کی ہم آہنگی کے لیے ایک ورکنگ گروپ بنانے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نےپنجاب حکومت کے تحت  جاری آسان کاروبار فنانس سکیم کی تعریف کی اور کہا کہ دوسرے صوبوں  کو بھی ایسی سکیمیں معارف کروانی چاہییں  اور کوشش کرنی چاہیے کہ ان سکیموں سے زیادہ سے زیادہ  ایس ایم ایز کو مستفید کیا جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا موجودہ حکومت  کے وژن کے مطابق دیگر بینک بھی مختلف طریقوں سے ایس ایم ایز کو مالیاتی وسائل  فراہم کرنے میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

اس موقع پر موجود سی ای او سمیڈا نادیہ جہانگیر سیٹھ نے بتایا کہ مالیات تک وافر رسائی کا معاملہ سمیڈا کے  بزنس پلان  کا ایک نمایاں ستون ہے۔ انہوں نے اس ستون کی تعمیر کیلئے اپنے ادارے کی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں  ہم صوبائی حکومتوں، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ تاکہ ایس ایم ایز کو کاروبار میں توسیع کے لیے قرض کی کثیر سہولیات حاصل ہو سکیں۔” انہوں نےبتایا کہ سمیڈا نے اس سلسلے میں قابل عمل سکیمیں تشکیل دینے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

قبل ازیں پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے نمائیدوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کی آسان کاروبار فنانس سکیم پر ایک پریزنٹیشن دی اور بتا یا کہ اس سکیم کے تحت ایک سال سے بھی کم عرصے میں تاجروں  میں 100 ارب روپے کے ریکارڈ قرضے تقسیم کیے گئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ بینک آف پنجاب کے ذریعے شروع کی گئی مذکورہ سکیم بے حد کامیاب ثابت ہوئی ہے جس سے 110,000 سے زیادہ لوگوں کو قرضے ملے ہیں جن میں تقریباً 50 فیصد  قرض خواہوں کا تعلق کم آمدنی والے گروہوں سے ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے پنجاب، کے پی اور سندھ میں ایس ایم ای فنانسنگ کاجائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بینک کے پاس ایس ایم ای فنانسنگ میں 10 ارب روپے کا پورٹ فولیو ہے لیکن بدقسمتی سے کے پی اور بلوچستان میں کوئی قابل ذکر اسکیم نہیں ہے۔انہوں نے بتا یا کہ فلپائن اور بنگلہ دیش بینکوں  نے پاکستان میں ایس ایم ایز کو فراہم کردہ سہولیات کی تعریف کی ہے اوراس سلسلے میں پاکستان میں مروجہ ماڈلز کا مطالعہ کرنے اور انہیں  اپنے ممالک میں لاگو کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

دیگر مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے بھی وزیر اعظم کے معاون خصوصی کوایس ایم ایز کیلئے  اپنی مالیاتی سکیموں  کے بارے میں آگاہ کیا اور سمیڈا  کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر وزیر اعظم کے وژن کے مطابق  ایک موثر اور فعال فنانشل ایکو سسٹم کو فروغ دینے کی یقین دہانی کرائی۔