قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس، الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی بل اور پی ایس ڈی پی امور کا جائزہ

12

اسلام آباد، 06 اپریل  ( اے پی پی ) :ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس سینیٹر خلیل طاہر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور کی جانب سے 19 جنوری 2026 کو سینیٹ میں پیش کیے گئے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیمی بل اور وزارتِ پارلیمانی امور کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام (PSDP) سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور نے خواتین کی سیاسی نمائندگی میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں خواتین کے لیے جنرل نشستوں پر مقررہ پانچ فیصد کوٹے کو بڑھایا جانا چاہیے، کیونکہ خواتین ملک کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ غیر سیاسی پس منظر رکھنے والی خواتین کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ مزید برآں، انہوں نے پولنگ اسٹیشنز پر معذور افراد کے لیے سہولیات کی فراہمی، خصوصاً ریمپس کی تعمیر کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی۔

سیکرٹری پارلیمانی امور نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ الیکشن ایکٹ میں وقتاً فوقتاً ترامیم کی جاتی رہی ہیں اور زیر غور تجاویز پر بھی متعلقہ اداروں، بالخصوص الیکشن کمیشن اور وزارتِ قانون سے رائے لی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجاویز قابل غور ہیں، تاہم ان کی عملی حیثیت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انتخابات کے دوران جامع سروے کے ذریعے ایسے پولنگ اسٹیشنز کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں بنیادی سہولیات جیسے بجلی، باؤنڈری وال، واش روم، پانی اور ریمپ دستیاب ہوں۔ حکام کے مطابق ان تجاویز کو قانون کا حصہ بنانے کے بجائے الیکشن کمیشن کی ہدایات میں شامل کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے زور دیا کہ موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ایسے قوانین سے گریز کیا جائے جن پر عملدرآمد ممکن نہ ہو۔ سینیٹر پرویز رشید نے بھی اس رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر تجاویز پر الیکشن کمیشن پہلے ہی کام کر رہا ہے، لہٰذا انہیں قانون سازی کا حصہ بنانے سے قبل سیاسی جماعتوں کی عملی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی قوانین نہایت حساس اور پیچیدہ نوعیت کے حامل ہوتے ہیں، اس لیے ایسی ترامیم کی جانی چاہئیں جو شفافیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ کریں۔سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ ان کی جماعت میں بڑی تعداد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے، اور انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اسکول ٹیچر سے سینیٹر بنی ہیں، جو میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر ممکن ہوا۔

کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیمی بل کو مسترد کر دیا۔اجلاس کے دوسرے ایجنڈے، یعنی پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام سے متعلق منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری پارلیمانی امور نے بتایا کہ وزارتِ پارلیمانی امور کا اس پروگرام کے تحت کوئی منصوبہ زیر عمل نہیں ہے۔

اجلاس میں سینیٹرز خلیل طاہر، خالدہ عطیب، پرویز رشید، کامران مرتضیٰ، اور ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور کے علاوہ سیکرٹری پارلیمانی امور اور الیکشن کمیشن کے حکام نے شرکت کی ۔