غیر رسمی معیشت کو باضابطہ بنانے سے برآمدات اور ٹیکس میں اضافہ ہوگا، جام کمال خان

9

اسلام آباد، 16 اپریل(اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات اس وقت تک نہیں بڑھ سکتیں جب تک ملک کے بڑے غیر رسمی شعبے کو باضابطہ معیشت میں شامل نہیں کیا جاتاجبکہ  معیشت کی باضابطہ سازی سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس آمدن بڑھے گی اور صنعتی معیار بھی بہتر ہوگا۔

یہ بات انہوں نے محمد حارث اگر، ڈائریکٹر ایگر انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ، سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں ٹیکس نظام، تجارتی ڈھانچے اور معیشت کی دستاویز بندی سے متعلق اہم امور پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کی بڑی معیشت ہونے کے باوجود ٹیکس آمدن، جس کا تخمینہ تقریباً 15 ٹریلین روپے ہے، کمزور ٹیکس نیٹ اور ناقص عملدرآمد کے باعث پوری طرح حاصل نہیں ہو رہی۔ زراعت، ریٹیل اور چھوٹے کاروباروں سمیت معیشت کے بڑے شعبے اب بھی غیر رسمی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، جس سے رجسٹرڈ شعبوں پر زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے۔

وزیر تجارت نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دستاویزی کاروبار زیادہ ٹیکس اور اخراجات برداشت کر رہے ہیں جبکہ غیر دستاویزی عناصر نظام سے باہر ہیں، جس سے کاروباری ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو ٹیکس نظام میں شامل ہونے کے لیے مراعات اور آسانیاں نہ دی گئیں تو معیشت کی دستاویز بندی کا عمل سست رہے گا۔

ملاقات میں کمرشل درآمد کنندگان اور صنعتی شعبے کے درمیان ٹیکس کے فرق پر بھی بات ہوئی، جہاں دونوں کو اکثر ایک جیسا سمجھا جاتا ہے حالانکہ ان کے کام کرنے کے طریقے مختلف ہیں۔ مزید یہ کہ ایڈوانس ٹیکس نظام اور کمزور ٹریس ایبلٹی کے باعث سپلائی چین میں ویلیو ایڈیشن کا درست اندازہ نہیں لگایا جا رہا۔

محمد حارث اگر نے کہا کہ اگرچہ مختلف شعبوں کے لیے پالیسیاں موجود ہیں، لیکن عملی طور پر کئی جگہوں پر کمرشل سرگرمیاں زیادہ اور صنعتی ویلیو ایڈیشن کم ہے، جو پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گڈز بیسڈ ٹیکسیشن، بہتر دستاویز بندی اور سپلائی چین کی مؤثر نگرانی ضروری ہے۔

 وزیر تجارت نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور غیر رسمی شعبے کو سہولیات اور مراعات دے کر باضابطہ معیشت کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شفاف اور جامع معاشی نظام نہ صرف ٹیکس نیٹ کو بڑھائے گا بلکہ پاکستان کی برآمدات اور صنعتی ترقی کو بھی مضبوط کرے گا۔