پاکستان کی برآمدی صلاحیت کے فروغ کے لیے سمیڈا اور ٹی آئی اوز کا اشتراک

9

اسلام آباد، 16اپریل (اے پی پی): وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایس ایم ای کلسٹرز اور اہم ممالک کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران (TIOs) نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد برآمدات میں اضافے اور پاکستان کے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی عالمی سطح پر موجودگی کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

اجلاس میں چین، بنگلہ دیش، ملائیشیا، آسٹریلیا، انڈونیشیا اور ہانگ کانگ کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوار اسد اسلام مہنی، سی ای او سمیڈا نادیہ جے سیٹھ اور ملک بھر سے ایس ایم ای کلسٹرز کے نمائندگان نے شرکت کی۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کا وژن ہے کہ مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے اور ان کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا پاکستان میں ایم ایس ایم ایز کی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایس ایم ایز میں “میڈ اِن پاکستان” مصنوعات کو عالمی سطح پر برآمد کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ نامیاتی نمک، شہد اور پلاسٹک مصنوعات جیسے شعبے مؤثر معاونت کے ذریعے اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کی جانب سے تیار کردہ گھریلو صفائی اور فلور کلینر مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی مارکیٹ میں بی ٹو بی مواقع پیدا کرنے اور پاکستانی ایس ایم ایز کو عالمی خریداروں سے جوڑنے میں ٹی آئی اوز کے کلیدی کردار پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک ایکسپوز اور سمپوزیمز کے انعقاد سے ایس ایم ایز کو عالمی منڈی تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے اور وہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کامیابی کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کرک کا شہد ملائیشیا برآمد ہو رہا ہے، جو پاکستانی ایس ایم ایز کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔

معاونِ خصوصی نے سمیڈا اور ٹی آئی اوز کو ہدایت کی کہ وہ ایس ایم ایز کے لیے مواقع پیدا کریں اور انہیں عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے تجویز دی کہ آسٹریلوی ٹی آئی او سمیڈا کے تعاون سے پاکستان کے آٹو پارٹس اور شہد کے شعبوں کو آسٹریلوی درآمد کنندگان سے جوڑ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری کے شعبے میں جوائنٹ وینچرز کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے، خصوصاً چینی ٹی آئی اوز کے تعاون سے۔

ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ وزیرِاعظم نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بلوچستان میں ایس ایم ایز کے فروغ اور انہیں بین الاقوامی برآمدی مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔

انہوں نے سمیڈا کو ہدایت دی کہ وہ ایس ایم ایز کو برانڈنگ، مصنوعات کی ترقی اور برآمدی تکنیکوں کے حوالے سے تربیت فراہم کرے تاکہ وہ عالمی منڈی میں مؤثر مقابلہ کر سکیں۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سمیڈا، ٹی آئی اوز اور ایس ایم ای اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے پائیدار معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔