واشنگٹن ڈی سی ، 17 اپریل ( اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں کے موقع پر برطانیہ کی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی و افریقہ، جینی چیپمین، بیرونس چیپمین آف ڈارلنگٹن سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے آغاز میں وزیر خزانہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا۔
میکرو اکنامک صورتحال کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا ہے اور جون کے اختتام تک تمام مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مملکت سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی گئی بیرونی معاونت کا بھی اعتراف کیا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے چار سال بعد پہلی مرتبہ بانڈ کے اجرا کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے جھٹکے کے تناظر میں انہوں نے حکومتی پالیسی پر ردعمل کا خاکہ پیش کیا، جس میں اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات، مکمل قیمت منتقلی، ہدفی سبسڈیز، اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے براہِ راست ادائیگیاں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کامیابی سے طے پا چکا ہے اور ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری جلد متوقع ہے۔ وزیر خزانہ نے حکومت کی ساختی اصلاحات پر توجہ کو اجاگر کرتے ہوئے ٹیکس نظام کی معقولیت، توانائی کے شعبے کے اخراجات میں کمی، اور بلند مالیاتی لاگت سے نمٹنے کے اقدامات کا ذکر کیا۔
ماحولیاتی موافقت کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حالیہ سیلابوں کے دوران پاکستان نے بہتر مالیاتی استعداد کے باعث امدادی سرگرمیوں کے اخراجات مکمل طور پر اپنے وسائل سے پورے کیے، بغیر کسی بین الاقوامی وعدوں پر انحصار کیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے لیس ایک جدید نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر بھی قائم کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے آبادی میں اضافے کو پاکستان کو درپیش طویل المدتی ترقیاتی چیلنجز میں سے ایک اہم مسئلہ قرار دیا، اور کہا کہ یہ ورلڈ بینک کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں تین کلیدی ستونوں میں شامل ہے۔
ملاقات کے اختتام پر وزیر خزانہ نے برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (FCDO) کے تعاون کو سراہا۔











