یوکرین میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کا مذاکرات اور سفارتی عمل تیز کرنے پر زور

7

اقوامِ متحدہ، 21 اپریل(اے پی پی): پاکستان نے یوکرین میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ منصفانہ، دیرپا اور باہمی طور پر قابلِ قبول امن کے لیے مذاکراتی عمل کو تیز کیا جائے، کیونکہ مکالمہ ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین کی امن و سلامتی سے متعلق بریفنگ کے دوران پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے، پاکستان مشن کے قونصلر محمد کامران تاج نے کہا کہ یوکرین تنازعہ، جو اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے،بدستور عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہے اور پہلے سے سنگین انسانی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

 کامران تاج نے کہا کہ پاکستان جاری لڑائی پر شدید تشویش رکھتا ہے، کیونکہ اس سے متاثرہ آبادیوں کی مشکلات میں اضافہ، اعتماد کی کمی اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک بنیادی ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو ان اصولوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔

انہوں نے حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا جو امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے روس اور یوکرین کی جانب سے ایسٹر کے موقع پر جنگ بندی کے اعلان کو مثبت انداز میں نوٹ کیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں قیدیوں کے حالیہ تبادلے کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پیش رفت کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں اور دونوں فریقین کو اس رفتار کو برقرار رکھنے کی ترغیب دی۔

تنازع کے آغاز سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کا نقطۂ نظر مکالمے کی بالادستی پر مبنی ہے اور اس یقین پر قائم ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ صرف پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی رائے عامہ بھی بڑھتے ہوئے اس بات کی حمایت کر رہی ہے کہ تنازع کا حل سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے، اور ایک مسلسل، بامعنی اور منظم مذاکراتی عمل کی ضرورت پر زور دیا۔