عالمی بحری گزرگاہوں کا تحفظ عالمی تجارت اور امن کیلئے ناگزیر ہے: اقوامِ متحدہ میں سفیر عاصم افتخار کا خطاب

9

اقوام متحدہ، 27 اپریل (اے پی پی ): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے میں عالمی بحری گزرگاہوں کی سلامتی و تحفظ پر سفی عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں مملکتِ بحرین کو اس ماہ کی کامیاب صدارت پر مبارکباد پیش کی اور اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

 انھوں نے خلیجی خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی بھرپور تائید کی۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل گوتریس کا شکریہ ادا کیا بالخصوص اس بات پر زور دینے کے لیے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام، مکالمہ و تعاون، اور تنازعات کا پُرامن حل ناگزیر ہیں۔ ہم بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل  ارسینیو ڈومینگیز اور  نک چائلڈز کی بریفنگز اور اس موضوع پر ان کی ماہرانہ آرا کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا عالمی بحری خطے ایک کلیدی جغرافیائی-تزویراتی میدان ہیں جہاں اکیسویں صدی کے چیلنجز باہم متقاطع ہوتے ہیں۔ یہ عالمی تجارت کی شہ رگ ہیں، زمین کے ماحولیاتی نظام کا اشاریہ بھی ہیں، اور سمندری حیاتیاتی و معدنی وسائل کے وسیع ذخائر کا مسکن بھی۔ معاشی عالمگیریت کے مسلسل فروغ اور نقل و حمل و رابطہ جاتی ڈھانچے میں تیز رفتار بہتری کے باعث، عالمی تجارت اور کاروبار پہلے سے کہیں زیادہ بحری راستوں پر انحصار کرنے لگے ہیں۔

سمندر میں معمول کی آمدورفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ بین الاقوامی تجارت پر سنگین اثرات مرتب کرتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور ایسی بے یقینی پیدا ہوتی ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں خوراک و توانائی کے تحفظ پر پڑنے والے اثرات، نیز رسد کی زنجیروں میں خلل، اس کی واضح مثال ہیں۔

 اگر یہ بحران برقرار رہتا ہے تو ابتدائی نوعیت کے اثرات—جیسے تیل و گیس اور ضروری اشیاء خصوصاً کھاد کی فراہمی اور ان کی قیمتوں کے رجحانات—بتدریج ثانوی اور ثالثی اثرات میں تبدیل ہوں گے، جو مہنگائی، معاشی نمو، جاری کھاتوں اور ادائیگیوں کے توازن جیسے مسائل کو متاثر کریں گے۔ بلاشبہ، ترقی پذیر ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

بحرِ ہند کے خطے کی ایک ساحلی ریاست ہونے کے ناطے، عالمی بحری گزرگاہوں کے اہم مقامات کے قریب واقع ہونے اور بحری تجارت پر انتہائی انحصار کے باعث، پاکستان عالمی بحری راستوں کی سلامتی اور تحفظ کی بنیادی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ خطے اور اس سے باہر کے دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی آبنائے ہرمز کی بندش پر تشویش رکھتا ہے اور اس کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔

اسی ادراک کے پیشِ نظر پاکستان نے برادر ممالک، بشمول چین، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی حمایت سے، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور وسیع تر استحکام کے حصول کے لیے تعمیری سفارتی کوششوں کی قیادت کی ہے۔ اس بحران کے پائیدار حل کی سہولت کاری کے لیے جاری کاوشوں میں پاکستان سفارت کاری اور مکالمے پر اپنے غیر متزلزل یقین پر قائم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر ثابت قدمی سے عمل جاری رکھے گا۔