اسلام آباد۔6مئی(اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا فہد ہارون نے قومی سلامتی میں ڈیجیٹل اور معلوماتی میدان کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید دور میں قومی بیانیے کا تحفظ سرحدوں کے دفاع جتنا ہی اہم ہو چکا ہے۔ بدھ کو وہ قائداعظم یونیورسٹی میں سینٹر آف پاکستان اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز اور شعبہ دفاعی و تزویراتی مطالعات کے اشتراک سے منعقدہ نوجوانوں کے مکالمے بعنوان ‘‘سپرٹس الائنڈ: بہادری اور نوجوانوں کی توانائی کا جشن’’ سے خطاب کر رہے تھے جو معرکہ حق کی یاد میں منعقد کیا گیا۔
فہد ہارون نے اپنے خطاب میں معرکہ حق کو پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اتحاد، تزویراتی بصیرت اور ادارہ جاتی مضبوطی کا مظہر ہے جسے آئندہ نسلیں بھی مطالعے کا حصہ بنائیں گی۔
انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قوم کی طاقت اور استقامت کی بنیاد ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ قومی یادداشت کا حصہ رہیں گی۔معاون خصوصی نے کہا کہ جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے اور اب تنازعات صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ سائبر اور اطلاعاتی میدان اہم محاذ بن چکے ہیں جہاں بیانیہ عالمی رائے عامہ کو تشکیل دیتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ گمراہ کن معلومات اور ہائبرڈ وارفیئر قومی سلامتی کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے معلوماتی میدان میں مربوط اور حقائق پر مبنی حکمت عملی اختیار کی جس نے جھوٹے بیانیوں کا موثر جواب دیا۔
فہد ہارون نے زور دیا کہ ایسے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو حقائق پر مبنی مکالمے کو فروغ دے سکے اور غلط معلومات کا سدباب کر سکے۔ انہوں نے حکومت، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے درمیان تعاون کو ناگزیر قرار دیا تاکہ ایک مربوط قومی حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔
نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں کے ساتھ ساتھ تنقیدی سوچ سے بھی آراستہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حقیقت اور غلط معلومات میں فرق کر سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کے سفیر قرار دیا۔ انہوں نے قومی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی عالمی تقسیم کے دور میں اجتماعی عزم ہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
فہد ہارون نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں پاکستان نے تزویراتی وضاحت، سفارتی پختگی اور قومی مقصد کا مظاہرہ کیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر ڈیجیٹل نظام کو مزید مضبوط بنانے، سچائی کے فروغ، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معرکہ حق کے اصولوں انصاف اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب میں ماہرین تعلیم، افواج پاکستان کے نمائندگان، پالیسی ماہرین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔











