اقوامِ متحدہ، 7 مئی ( اے پی پی): پاکستان نے 13 دسمبر کو کدوگلی میں یونیسفا کے لاجسٹک اڈے پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے، جس میں بنگلہ دیش کے چھ امن فوجی جاں بحق ہوئے تھے، حملے کے ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے کہا کہ امن فوجیوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کا احتساب مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہے۔
ابیے (یونیسفا) کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں قومی بیان دیتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ مالیاتی تحفطات کو امن فوجیوں کے تحفظ، سلامتی اور ان کے خلاف جرائم کے احتساب پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان افراد کی سلامتی پر لاگت کی کوئی حد مقرر نہیں کر سکتے جو اس سلامتی کونسل کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹس پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابیے کی صورتحال بدستور نازک اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجوہات میں سوڈان کا تنازع، جنوبی سوڈان میں عدم استحکام، بین القبائلی کشیدگی، اسلحے کا پھیلاؤ، جرائم پیشہ سرگرمیاں، اور ریپڈ سپورٹ فورسز سمیت غیر مجاز مسلح عناصر کی موجودگی شامل ہیں۔
انہوں نے یونیسفا کو ابیے میں استحکام کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیسفا کے اڈوں میں پناہ لینے والے شہری اس صورتحال کی سنگینی اور مشن کی اہمیت دونوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 600 پاکستانی امن فوجی کمیونٹی روابط اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کے ذریعے امن کے قیام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے سیاسی عمل میں پیش رفت سے متعلق حالیہ اطلاعات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں کو اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان انہیں اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، آئی جی اے ڈی اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی معاونت سے مشترکہ سیاسی و سلامتی طریقۂ کار اور ابیے مشترکہ نگرانی کمیٹی سمیت مختلف فورمز کے ذریعے رابطے جاری رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یونائیٹڈ نیشنز انٹرم سکیورٹی فورس فار ابیے (یونیسفا) کے مینڈیٹ پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تشکیل شدہ پولیس یونٹس اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ناگزیر ہے، اور اب جبکہ حالات اس تعیناتی کے لیے سازگار ہیں، اس کے لیے مناسب مالی وسائل بھی فراہم کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ان ایف پی یوز کی فوری تعیناتی قانون کی حکمرانی مضبوط بنانے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔
سفیر جدون نے کہا کہ یہ پولیس یونٹس امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ پاکستان نے مشن کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یونیسفا کی مسلسل موجودگی نازک امن کو برقرار رکھنے، صورتحال کو دوبارہ بگڑنے سے روکنے اور سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول قائم رکھنے میں مددگار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی مشکل حالات میں مینڈیٹ پر عملدرآمد کرنے والے مشن اور یونیسفا کے امن فوجیوں کی خدمات کو سراہتے ہیں۔











