اسلام آباد، 12 مئی (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں دواسازی کے خام مال اور ویکسین کی مقامی تیاری کے آغاز سے صحت کے شعبے میں خود کفالت کی جانب اہم پیش رفت ہوگی جبکہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے ہیلتھ کئیر کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
پاک چائنہ فارماسیوٹیکل انویسٹمنٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ آج پاکستان کے لئے تاریخی دن ہے اور اس پیش رفت کا کئی برسوں سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے پی آئی اور ویکسین صحت کے شعبے کے لئے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور پاکستان کے نجی شعبے اور چینی شراکت داروں کا تعاون قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے لئے یہ شکر کے لمحات ہیں کیونکہ اب ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی پیداوار پاکستان میں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے 51 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے تاہم ادویات کی تیاری کے لئے خام مال درآمد کیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ذہانت اور صلاحیت موجود ہے لیکن ماضی میں اس ٹیلنٹ سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریب میں خام مال کی پیداوار اور پولٹری ویکسین کی تیاری کے حوالے سے دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 4.5 ملین ڈالر کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہے جبکہ 49 فیصد غیر ملکی شراکت دار مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2030 تک عالمی معاونت ختم ہو جائے گی جس کے بعد پاکستان کو 13 ویکسین اپنی مالی وسائل سے خریدنا ہوں گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کورونا وائرس سے اموات میں کمی ویکسین کی بدولت ممکن ہوئی جبکہ مستقبل میں کینسر کے علاج کے لئے بھی ویکسین متعارف ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کے بعد پاکستان کو ویکسین کی خریداری پر 1.2 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں اس لئے حکومت مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولٹری ویکسین بھی بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہے جبکہ جانوروں اور انسانوں دونوں کی ویکسین یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ جب حکومت نے ویکسین سازی پر کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان کے پاس ویکسین پالیسی موجود نہیں تھی تاہم اب ایک سال سے بھی کم عرصے میں ملک کی ویکسین پالیسی تیار کر لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہ سفر جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا موجودہ نظام “سک کئیر” ہے جسے حقیقی معنوں میں “ہیلتھ کئیر” میں تبدیل کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں دورانِ زچگی جان کی بازی ہار جاتی ہیں اور اس مسئلے پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔











