یوکرین تنازعہ کے حل کے لئے روس امن تجاویز پر زور دے رہا ہے، روسی سفیر البرٹ پی خوریف

4

اسلام آباد، 20 مئی (اے پی پی ): پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازعہ کے حل کے لئے امن تجاویز پر زور دے رہا ہے تاہم ان کے بقول یوکرین حکومت تصفیے کی جانب پیش ر فت کی بجائے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔توانائی تنصیبات پر حملے علاقائی توانائی سلامتی اور سپلائی کے لئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔گزشتہ روز یہاں پاکستانی میڈیا نمائندوں اور تعلیمی و اکیڈمک حلقوں کے لئے منعقدہ خصوصی میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر نے یوکرین جنگ، علاقائی توانائی سلامتی اور متعلقہ امور کے بارے میں ماسکو کا مؤقف پیش کیا۔روسی سفیر نے بین الاقوامی سطح پر نازی ازم کی تعریف و ترویج کے خلاف روسی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر سال پیش کی جانے والی متعلقہ قرارداد پر پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے یوکرین تنازعہ کے حل کے لئے روس کی امن تجاویز پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین میں جبری فوجی بھرتیاں جاری ہیں اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے قریبی افراد پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ روسی سفیر نے یوکرین میں جرائم کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔بریفنگ کے دوران انہوں نے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے خصوصاً ترک سٹریم اور بلیو سٹریم گیس پائپ لائنز پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات علاقائی توانائی سپلائی اور سلامتی کے لئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔بوچا ہلاکتوں اور جنگ کے دوران یوکرینی بچوں کی منتقلی سے متعلق الزامات کے حوالے سے روسی سفیر نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس، روس-یوکرین سرحد کے دونوں جانب جنگ کے باعث بچھڑ جانے والے خاندانوں کو دوبارہ ملانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ تقریب کے دوران  مصنف زاخار پریلیپن کی کتاب ’’ملیشیا رومانس‘‘ بھی پیش کی گئی جس میں 2014 کے واقعات کے بعد ڈونباس کے رہائشیوں کے تجربات اور وہاں کی صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔