اسلام آباد،21مئی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد دوست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں دونوں ممالک کی دوستی ایک منفرد مثال اور وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، چین کی اقتصادی اور فوجی قوت دنیا کے لئے مثال ہے، سی پیک 2.0 میں زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی و معدنیات ترجیح ہیں، مشترکہ کاوشوں سے ترقی کا راستہ طے کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے یاد دلایا کہ پاکستان سب سے پہلا مسلم ملک اور دنیا کے اولین ممالک میں شامل تھا جس نے چین کو تسلیم کیا، 75 سال قبل ہمارے بانیان نے ان تعلقات کی بنیاد رکھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں منفرد مثال کی حامل پاکستان-چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، زلزلے ، سیلاب سمیت کسی بھی مشکل میں چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا، کوئی بھی آفت ہو ، چین نے ہمارا بے مثال ساتھ دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں پہلی پرواز جو بیجنگ ایئرپورٹ پر اتری وہ پاکستانی تھی ، ہم نے ہنری کسنجر کے دورے کا بندوبست کیا، پاکستان نے ہمیشہ ون چائنہ پالیسی کی حمایت کی ہے اور کرتے رہیں گے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی، مشترکہ مقاصد اور سوچ کی بنیاد پر دونوں ممالک قریب سے قریب تر ہوتے گئے، تعاون کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے میں بھی امن و ترقی آئے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک صدر شی چن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ وژن کا عملی مظہر ہے، سی پیک پاکستان کی معیشت اور روزگار کی فراہمی کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء کا سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت، چین نے بے مثال ساتھ دیا، چین اولین ممالک میں شامل تھا جس نے ہیلی کاپٹرز، ادویات، ماہرین کے ساتھ ہماری مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے ہر مشکل وقت میں چین کے تعاون کو سراہا، ہم ان کی مدد اور مہربانی بھلا نہیں سکتے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ چینی صدر کثیر الجہتی کے فروغ اور سفارت کاری و پرامن بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں پاکستان امن کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، دیگر ممالک کے ساتھ چین نے پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی ہے ۔ کسی سیاسی مفاد کے بغیر ہماری ایک دوسرے کی حمایت کی طویل تاریخ ہے ، پاک- چین دوستی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی ہے، مشترکہ کاوشوں سے ترقی کا راستہ طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پاور پلانٹس ڈیمز جو ہمارے لیے روشنی اور توانائی کا ذریعہ ہیں، میں بھی چین کا بڑا کردار ہے۔ چین پاکستان کا سب سے مضبوط اور قابل اعتماد دوست ہے۔ تاریخ دان ہماری دوستی کی گہرائی اور طاقت کا فیصلہ کریں گے ، ہمارا یہ سفر جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وقت کی ہر آزمائش پورا اترتی شراکت داری میں دونوں ممالک نے یکساں شرکت کی ہے۔ جب بھی چین کے دورے کا موقع ملتا ہے ہر بار وہاں نئے شہر اور صنعتیں ابھرتے دیکھتا ہوں ۔ صدر شی چن پنگ کی قیادت میں چین نے 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، آج چین کی اقتصادی اور فوجی قوت دنیا کے لئے مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زراعت میں جدت کے لئے چین پاکستان کی مدد کر رہا ہے، ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس نے چین میں جدید تربیت مکمل کی، سی پیک 2.0 میں زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی و معدنیات کا شعبہ ترجیح ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ چیلنج بھی ہے اور موقع بھی، چینی تعاون سے اسے موقع میں بدلنے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے، پاکستان میں موجود ہر چینی شہری کو بہترین سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں، اس سلسلے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورہ چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور میں پاک چین دوستی کے پرجوش حامی ہیں، پاکستان کے 24 کروڑ عوام چین کو سب سے قابل اعتماد دوست سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی طرح میرا دورہ چین بھی تعلقات کو دوام بخشے گا، دورے کے دوران چینی قیادت سے ملاقاتیں ہوں گی، دہشت گردی کیخلاف تعاون کو مضبوط بنائیں گے اور سکیورٹی اقدامات کو بہتر کریں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین کے صدر شی جن پنگ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔











