جنیوا، 22 مئی (اے پی پی): جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی انڈونیشیا کے وزیرِ صحت سے ملاقات ہوئی جس میں صحت کے شعبے سمیت دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے گہرے اور مضبوط مراسم ہیں۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تیرہ بیماریوں کی ویکسین بچوں کو مفت فراہم کی جا رہی ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے جبکہ بین الاقوامی ادارے ویکسین کی قیمت کا بڑا حصہ ادا کرتے ہیں جس کے باعث حکومت پر مالی بوجھ نسبتاً کم رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2030 تک بیرونی اداروں کی فنڈنگ صفر ہو جائے گی اور پاکستان کو مکمل بوجھ خود برداشت کرنا پڑے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے پرعزم ہے اور اس حوالے سے تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی مقامی تیاری کیلئے انڈونیشیا پاکستان کا اہم شراکت دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نیشنل ویکسین پالیسی بھی تشکیل دے دی ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ حکومت لوگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے مل کر کام کریں گے۔











