سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ،توانائی شعبے کی اصلاحات، پی آئی اے کی تنظیمِ نو اور کراچی پراپرٹی تنازعہ پر غور

6

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس بدھ کو سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ڈسکوز اور جنکوز کی نجکاری، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی تنظیمِ نو، ملازمین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور کراچی میں واقع ایک متنازعہ جائیداد کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر خلیل طاہر، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان، سیکرٹری نجکاری ڈویژن اور ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے شرکت کی۔کمیٹی کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (جنکوز) کی نجکاری سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی   جس میں سنگل بائر ماڈل کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کی نجکاری کو مالی خساروں اور آپریشنل مسائل کے باعث شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس موقع پر سینیٹر بلال احمد خان نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ گدو پاور پلانٹ اور نندی پور پاور پلانٹ کی مجوزہ نجکاری کے حوالے سے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ حکام نے اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت اور زیر غور امور پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے اس معاملے پر ایک سمری ارسال کی ہے اور امکان ہے کہ موجودہ شکل میں نجکاری کا عمل آگے نہ بڑھ سکے۔چیئرمین کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اگر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری نہ ہوئی ہوتی تو اسے بھی ممکنہ طور پر توانائی کے شعبے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔بعد ازاں چیئرمین کمیٹی نے پی آئی اے سی ایل کی موجودہ صورتحال سے متعلق استفسار کیا۔ حکام نے بتایا کہ ادارے سے متعلق تین اہم معاملات زیر غور ہیں جن میں 5 ارب روپے کی ایک ادائیگی بھی شامل ہے جو 15 جون تک متوقع ہے۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کے بیڑے میں 50 سے زائد نئے طیارے شامل کئے جائیں گے۔ مزید برآں ان جائیدادوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی جو نجکاری کے عمل کا حصہ نہیں ہیں اور جنہیں پی آئی اے سی ایل سے الگ کرنے کا عمل جاری ہے۔ بتایا گیا کہ ان جائیدادوں کی مالیت کا تخمینہ ایک نجی کمپنی کے ذریعے لگایا گیا ہے۔سینیٹر بلال احمد خان نے زمین اور عمارتوں کی الگ الگ مالیت کے بارے میں سوال کیا، جس پر حکام نے بتایا کہ اس وقت متعلقہ تفصیلات دستیاب نہیں تاہم آئندہ اجلاس میں جامع بریفنگ فراہم کی جائے گی۔اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے پی آئی اے کے ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کا بھی ذکر کیا۔ حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن (ایس ایل آئی سی ) کے ساتھ 14,500 سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہو چکی ہیں۔ اگرچہ فروری اور مارچ کے مہینوں میں بعض مشکلات پیش آئیں تاہم اب نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے اور حال ہی میں 2,200 سے زائد او پی ڈی کیسز نمٹائے گئے ہیں۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس کے نیٹ ورک میں ملک بھر کے 800 سے زائد ہسپتال شامل ہیں۔ مستفید افراد اس نیٹ ورک میں شامل کسی بھی ہسپتال سے علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے ان ملازمین کے حوالے سے بھی استفسار کیا جنہیں ماضی میں علاج کے لیے ملتان جانا پڑتا تھا۔ حکام نے بتایا کہ اب ایک مخصوص ہسپتال نامزد کر دیا گیا ہے جہاں فارمیسی اور او پی ڈی کی سہولیات بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔اجلاس میں کراچی کے سول لائنز علاقے میں پاکستان ریلوے کی زمین پر قائم نیشنل کموڈیٹیز ایکسچینج لمیٹڈ (این سی ای ایل ) کی عمارت (سابقہ حیات ریجنسی منصوبہ) سے متعلق لیز، قانونی حیثیت اور مستقبل کے استعمال کے معاملات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ نے ملکیت اور ٹائٹل کے انتظام میں تبدیلی کی درخواست کی تھی تاہم پاکستان ریلوے نے اس تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ زمین کی ملکیت کامیاب بولی دہندہ کے نام ہی برقرار رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ بعد ازاں یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا اور اس پر حکمِ امتناع جاری کر دیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کے مؤقف کی وجوہات جاننے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کا آئندہ اجلاس میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور پاکستان ریلوے، این سی ای ایل اور کامیاب بولی دہندہ کے نمائندوں کو طلب کر کے تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے گی تاکہ تمام فریقین کے مؤقف کو واضح طور پر سمجھا جا سکے۔