طالبان رجیم میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری، بین الاقوامی میڈیا  کا  افغان نظام میں خواتین کی حالتِ زار پر گہری تشویش کا اظہار

7

اسلام آباد، 4 جون (اے پی پی): افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس پر عالمی برادری کے فوری اور مؤثر ردعمل کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے موجودہ افغان نظام میں خواتین کی حالتِ زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی عالمی جریدے “دی گارڈین” کی ایک رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم کے دور میں افغانستان کے اندر صورتحال اس حد تک ابتر ہو چکی ہے کہ وہاں ایک پرندہ بھی عورت سے زیادہ محفوظ ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں سے افغانستان میں ساتویں جماعت اور اس سے اوپر کی لڑکیوں کے لیے اسکول ہی نہیں کھولے جا سکے۔ طالبان کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں اور نئے قوانین نے افغان خواتین کی سماجی و نجی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیاہے کہ افغانستان میں نکاح سے متعلق نافذ کیے گئے نئے قانون میں کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے، جبکہ افغان طالبان کا عدالتوں کا نیا نظام بھی خواتین کی آزادی اور حقوق کے لیے ایک اور بڑا نقصان ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی قوانین کے تحت خواتین کے خلاف ہر قسم کے ظلم کو سنگین جرم قرار دیے جانے کے باوجود طالبان رجیم مسلسل انہی جابرانہ طریقوں پر عمل پیرا ہے۔

رپورٹ میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خود افغانستان کے وزیر تعلیم نے  2024ء میں صحافیوں کو دوٹوک لفظوں میں بتایا تھا کہ افغانستان میں موجودہ حالات کے تحت خواتین کی تعلیم ابھی ممکن نہیں ہے، اور یہاں تک کہ سکولوں کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں سوال کرنے پر بھی سخت ممانعت ہے۔

عالمی معاشی و سیاسی ماہرین کا اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ افغان طالبان کے موجودہ دورِ حکومت میں افغانستان خواتین کے لیے مکمل طور پر ایک غیر محفوظ ملک بن چکا ہے، جہاں ان سے تعلیم حاصل کرنے جیسا بنیادی انسانی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، طالبان نے خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی ہے؛ لہٰذا جب تک طالبان رجیم انسانی حقوق کی بحالی سے متعلق اپنے تمام عالمی وعدے پورے نہیں کرتی، تب تک اسے عالمی سطح پر بطور حکومت کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔