روسی صدر نے بھارت کو آئینہ دکھا دیا؛ پاکستان کی آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کی عالمی سطح پر تصدیق

5

اسلام آباد، 5 جون (اے پی پی(:روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے آزاد اور خود مختار ہونے کی عالمی سطح پر تصدیق کرتے ہوئے پاکستان مخالف بھارتی پراپیگنڈے کو بری طرح مسترد کر دیا ہے۔ سینٹ پیٹرز برگ اکنامک فورم کے دوران ایک بھارتی صحافی کی جانب سے پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور پاکستان کو چین کے زیرِ اثر قرار دینے کے الزام پر روسی صدر نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے بھارتی صحافی کی طبیعت صاف کر دی۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھارتی صحافی کے الزام کا انتہائی ٹھوس جواب دیتے ہوئے پاکستان کے کسی بھی ملک کے زیرِ اثر ہونے کے تاثر کو یکسر خارج کر دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم بھارت اور پاکستان سے متعلق تمام باریکیوں اور مسائل سے پوری طرح واقف ہیں۔ صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک بڑا اور خود اعتماد ملک ہے جس کے مختلف ممالک کے ساتھ کئی پہلوؤں سے آزادانہ تعلقات ہیں، اور اسے دنیا میں ایک اہم ملک سمجھا جانا چاہیے۔

عالمی سیاسی  سفارتی ماہرین کے مطابق روسی صدر پیوٹن کے اس غیر مبہم اور واشگاف بیان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کسی بھی بیرونی دباؤ کے نہ ہونے کے تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔  ماہرین کے مطابق انتہا پسند بی جے پی حکومت کو عالمی سطح پر پاکستان کا ابھرتا ہوا فعال سفارتی کردار ہضم نہیں ہو رہا، یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے صحافی تمام تر ہزیمت اٹھانے کے باوجود پاکستان کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

روسی صدر کے بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ خود عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار ہونے والا بھارت، پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کی اپنی مذموم مہم میں بری طرح ناکام و نامراد ہو چکا ہے اور عالمی قیادت پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت اور خود مختاری کو کھلے دل سے تسلیم کر رہی ہے۔