آپریشن بلیو سٹار کے 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

2

اسلام آباد، 6 جون ( اے پی پی)؛ بھاری فوج کے آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل ہونے پر سکھ برادری اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس کارروائی کو یاد کرتے ہوئے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ دہرایا جا رہا ہے۔

آپریشن بلیو سٹار کا آغاز یکم جون 1984 کو گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجی کارروائی سے ہوا تھا، جس کے دوران ہزاروں نہتے مرد، خواتین، بزرگ اور بچے متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق گولڈن ٹیمپل پر فوجی کارروائی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی تھی، جس کے اثرات آج بھی سکھ برادری محسوس کر رہی ہے۔

‎رپورٹس کے مطابق آپریشن بلیو سٹار کے خلاف برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، جبکہ متعدد سکھ فوجی افسران اور اہلکاروں نے اس کارروائی کے ردعمل میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔

‎سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرکاش سنگھ بادل نے آپریشن بلیو سٹار کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی فوج کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔

سکھ مورخ ہرجندر سنگھ دلگیر نے اس کارروائی کو سکھوں کے خلاف ایک منظم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذریعے سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے حقوق متاثر ہوئے۔

معروف صحافی شیکھر گپتا نے بھی آپریشن بلیو سٹار کو بھارتی فوج کی ناقص منصوبہ بندی اور بڑی ناکامیوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔

‎چار دہائیاں گزرنے کے باوجود سکھ برادری کے مختلف حلقے اب بھی اس واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔