قومی اسمبلی اجلاس ، بجٹ 2026-27: 18,771 ارب روپے کا عوام دوست بجٹ پیش، ترقی کی شرح 4 فیصد، ٹیکس ریلیف کا اعلان

2

اسلام آباد، 12 جون (اے پی پی ):  قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا عوام دوست وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔بجٹ کا محور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنا اور ٹیکس ریلیف فراہم کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ کل اخراجات میں سے 8,054 ارب روپے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ 20,600 ارب روپے ہے۔ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جو رواں مالی سال سے 17.6 ارب روپے زیادہ ہے۔ صوبوں کا حصہ 8,848 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5,336 ارب روپے ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق اگلے مالی سال جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد اور اوسط مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس 2 فیصد رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ پینشن کے اخراجات کے لیے 1,169 ارب روپے جبکہ بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈیز کے لیے 1,091 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور کے پی کے ضم شدہ اضلاع کے لیے گرانٹس کی مد میں 2,680 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,071 ارب روپے مختص ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کفالت پروگرام کو 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک اور تعلیمی وظائف پروگرام کو 92 لاکھ بچوں تک بڑھایا جائے گا۔ بی آئی ایس پی کے لیے اگلے مالی سال 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

جاری اخراجات سے آزاد کشمیر کے لیے 146 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب اور کے پی کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے دیے جائیں گے۔

قومی ترقیاتی پروگرام کا حجم 3,675 ارب روپے ہے۔ اس میں وفاقی PSDP ایک ہزار ارب، صوبائی ترقیاتی پروگرام 2,224 ارب اور سرکاری اداروں کے ترقیاتی اخراجات 451 ارب روپے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سماجی شعبے کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں، وفاق اسٹریٹجک اہمیت کے منصوبوں پر توجہ دے رہا ہے۔

وفاقی PSDP کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ نقل و حمل، آبی وسائل اور توانائی کے لیے مختص ہے۔ باقی رقم اعلیٰ تعلیم، زراعت، صحت اور آئی ٹی کے لیے رکھی گئی ہے۔ “اڑان پاکستان” اور 5Es نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت منصوبے ترقیاتی پروگرام کا اہم حصہ ہیں۔

شاہراہوں، ریل اور بندرگاہوں کی ترقی اولین ترجیح ہے۔ نقل و حمل کے انفراسٹرکچر کے لیے 365 ارب روپے کی سب سے بڑی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس میں سے 100 ارب روپے کراچی سے چمن کو ملانے والی این-25 پاکستان ہائی وے کو دو رویہ کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے 71 ارب روپے اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی توسیع کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔