موجودہ حالات میں بجٹ متوازن، کسانوں اور آبادی کے مسئلے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، سائرہ افضل تارڑ

4

اسلام آباد، 15 جون (اے پی پی): رکن قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے بجٹ 2026-27 پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی معاشی دباؤ اور چیلنجز کے باوجود حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا ہے جسے کاروباری برادری اور صنعتکاروں نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس کے خاتمے سمیت متعدد اقدامات سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں بجلی، زرعی مداخل اور قرضوں میں مزید سہولتیں دی جانی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ تیزی سے بڑھتی آبادی ہے، جس کے باعث صحت، روزگار اور ترقی کے شعبوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت اور آبادی کے مؤثر انتظام پر زور دیا۔

سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو ہائبرڈ جنگ اور منفی پراپیگنڈے کا سامنا ہے، اس لیے قومی اداروں اور نوجوانوں کے اعتماد کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش تشویشناک ہے اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اقدامات کرے گا۔

انہوں نے ملک میں آبی ذخائر کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا، مہمند اور دیگر ڈیموں سمیت پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے قومی ترجیح ہونے چاہئیں تاکہ مستقبل میں پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔