سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس، ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کی بریفنگ

3

اسلام آباد، 15 جون ( اے پی پی ) : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس پیر کویہاں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں فنانس بل 2026 کے تفصیلی جائزہ  کاسلسلہ جاری رہا۔ کمیٹی نے مسلسل تیسرے اجلاس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق وار جانچ پڑتال کی اور مالیاتی، ٹیکس، صنعتی اور محصولات سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا۔کمیٹی نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا شق وار تفصیلی جائزہ لیا اور فنانس بل 2026 کے تحت پیش کی گئی اہم ٹیکس تجاویز، مالیاتی اصلاحات اور مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیا۔ ایف بی آر  کے حکام نے اراکین کو مختلف دفعات پر بریفنگ دی اور ٹیکس انتظامیہ، محصولات کی وصولی اور عملدرآمد کے طریقہ  کار سے متعلق تفصیلی سوالات کے جوابات دیئے۔

کمیٹی نے سٹیل اور مینوفیکچرنگ شعبوں سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جن میں ٹیکس وصولی کے طریقہ کار، ریفنڈ نظام اور صنعتی سہولت کاری سے متعلق تجاویز شامل تھیں۔

کمیٹی کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جن کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے معیشت کو دستاویزی بنانے   اور ٹیکس تعمیل میں بہتری لانا ہے۔ اراکین کو بتایا گیا کہ صنعتی یونٹس کے لئے ڈیجیٹل نگرانی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ شفاف نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور انتظامی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ کمیٹی نے اس اقدام سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار پر تبادلہ  خیال کیا۔

اجلاس  میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر شاہ زیب  درانی، سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان، سینیٹر فیصل واوڈا، سینیٹر سید فیصل علی سبزواری، سینیٹر دلاور خان، پاکستان سٹیل ملز کے نمائندے، ٹیلی کام شعبے کے سٹیک ہولڈرز، بڑی صنعتوں  کے نمائندے، آٹو انڈسٹری کے نمائندگان، ایف بی آر اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔