اسلام آباد، 16 جون)اے پی پی):قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
ممبر قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے سول اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو سراہا۔
بنگلہ دیش کے ہائیر ایجوکیشن کے وفد نے قومی اسمبلی کادورہ کیا اور ایوان کی کارروائی دیکھی۔ قومی اسمبلی آمد پر سپیکر ایاز صادق نے وفد کا خیر مقدم کیا جبکہ اراکین نے ڈیسک بجاکران کا استقبال کیا۔
گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی دیکھی۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وی آئی پی کی گیلری میں ان کے آمد پر ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ نے ان کا خیرمقدم کیا۔ اراکین نے بھی ڈیسک بجا کر ان کو خوش آمدید کہا۔
وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ گورننس کے بہتر نظام سے لوگوں کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے میں مدد ملے گی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ضروری ہے، این ایف سی میں آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا تناسب 50 فیصد رکھا جائے۔
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک کی آبادی 26 کروڑ ہے اور ہر سال 6.7 ملین لوگ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو2030ء تک ہم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پانچویں بڑے ملک سے چوتھے بڑے ملک کے نمبر پر چلے جائیں گے، ہرسال 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران مرجاتی ہیں، 40 فیصد بچے ناقص غذائیت کا شکار ہیں، دو کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں، ہمیں 66 ہزار سکولوں اور 6 لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی ضرورت ہے، ہمیں 3600 نئے پرائمری ہسپتال اور دو کروڑ نئے گھر چاہئیں، اگر اس صورتحال پر قابو نہیں پایا گیا توہمارے مسائل بڑھ جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت کی دولت کی تقسیم کے فارمولے کا انحصار 82 فیصد آبادی پر رکھا گیا ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس مسئلہ کوحل ہونا چاہے، این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم کافارمولا 50 فیصد آبادی کی بنیاد پر رکھنا چاہئے۔











