اسلام آباد، 16 جون(اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں آبادی کا تیزی سے بڑھنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے اور اسے کنٹرول کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث صحت، تعلیم، رہائش، روزگار اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک کے پاس موجود وسائل اتنی بڑی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو دستیاب وسائل پر شدید دباؤ آئے گا اور معیار زندگی مزید متاثر ہو گا۔
وفاقی وزیر نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مانع حمل ادویات اور مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس ختم کرنے کے حکومتی اقدام کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثبت اور دور رس فیصلہ ہے جس سے فیملی پلاننگ تک عام آدمی کی رسائی آسان ہو گی اور آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مصطفیٰ کمال نے ایوان کو بتایا کہ وزارت صحت نے “پاپولیشن اسٹیبلائزیشن روڈ میپ” بھی تیار کر لیا ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت ملک بھر میں عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی تاکہ لوگوں کو چھوٹے خاندان کے فوائد اور آبادی و وسائل میں توازن کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم میں علماء کرام، سول سوسائٹی، میڈیا اور صحت کے کارکنوں کو شامل کیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ فیملی پلاننگ کو ایک قومی ذمہ داری کے طور پر اپنایا جائے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ آبادی اور وسائل میں توازن کے بغیر پائیدار ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔











