زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مزید جامع اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، عامر حسین مگسی

4

اسلام آباد، 17 جون )اے پی پی ): رکن قومی اسمبلی عامر حسین مگسی نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مزید جامع اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور کسان اس کی بنیاد ہیں، اس لیے اس شعبے کو جدید سہولتوں اور ریلیف کے ساتھ مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ 27-2026 پر بدھ کے روز   جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے عامر حسین مگسی کا مزید کہنا تھا کہ زرعی مشینری، کھاد، ٹریکٹرز، ادویات اور بجلی کے شعبوں میں سبسڈی فراہم کرنے سے نہ صرف کسانوں کو ریلیف ملے گا بلکہ زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے واٹر مینجمنٹ کے مسائل کے حل اور پانی کے مؤثر استعمال کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی بھی سفارش کی۔

انہوں نے زرعی تحقیق کے فروغ کے لیے جامعات اور تحقیقی اداروں کو مزید فعال بنانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

عامر حسین مگسی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ایک اہم سماجی تحفظ کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لاکھوں مستحق افراد بلا تفریق فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے حکومت اور عسکری قیادت کی جانب سے امریکہ ایران تنازع کے دوران سفارتی سطح پر ادا کیے گئے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا اور ملک کا وقار بلند ہوا ہے