سفارتی کامیابیوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ہوگا، گوادر کو فعال بنا کر 6 سے 8 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کیا جائے، اعجاز الحق

5

اسلام آباد۔ 19 جون (اے پی پی): قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی اعجاز الحق نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران پاکستان نے امن کے قیام اور جنگ بندی کی کوششوں میں جو تعمیری کردار ادا کیا، اس سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ اور اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور حکومتی قیادت کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج بین الاقوامی معاملات میں پاکستان کی رائے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر دوست ممالک کی کوششیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ہر بحران اپنے ساتھ مواقع لے کر آتا ہے، اس لیے حکومت کو سفارتی کامیابیوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کرتے ہوئے سرمایہ کاری، برآمدات اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ حجم کے لحاظ سے بڑا ہے، تاہم ملکی معیشت کے لیے 4 فیصد شرح نمو ناکافی ہے؛ غربت اور مہنگائی کے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے معیشت کو کم از کم 6 سے 8 فیصد سالانہ ترقی کی ضرورت ہے۔ اعجاز الحق نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کو فعال، محفوظ اور جدید لاجسٹکس سے لیس کر کے اسے علاقائی تجارت کا اہم مرکز بنایا جائے کیونکہ بدلتے حالات میں اس کی اہمیت کراچی سے زیادہ ہو چکی ہے۔

تجارتی خسارے کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے انہوں نے غیر ضروری تعیشاتی درآمدات پر سخت نگرانی عائد کرنے اور مقامی صنعت کے تحفظ کی تجویز دی۔ برآمدی شعبے، خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری کو معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ ملکی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے اور اس میں تقریباً 51 فیصد ویلیو ایڈیشن ہوتی ہے۔ برآمد کنندگان کی جانب سے ایڈوانس ٹیکس میں کمی اور سپر ٹیکس رعایتوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے مائنیمم ٹیکس رجیم کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

اعجاز الحق نے تجویز دی کہ کم منافع پر کام کرنے والی برآمدی صنعتوں کے لیے ٹیکس نظام کو سادہ بنایا جائے اور ماضی میں رائج فائنل ٹیکس رجیم (FTR) یا فکسڈ ٹیکس نظام کو بحال یا مؤثر بنایا جائے تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھ سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر خزانہ صنعتی نمائندوں کی موصول شدہ تجاویز کا مثبت جائزہ لے کر ایک متوازن اور پائیدار ٹیکس پالیسی اختیار کریں گے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔