لاہور، 19 جون (اے پی پی): سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت پولوشن انفورسمنٹ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پنجاب بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے بڑے ذرائع کی نشاندہی کرتے ہوئے آلودگی کے خاتمے، ویسٹ مینجمنٹ اور مؤثر انفورسمنٹ کے لیے جامع روڈ میپ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
اجلاس میں ہڈیارہ ڈرین، گلبرگ ڈرین، سلاٹر ہاؤسز، ڈسپوزلز، نالوں، ہسپتال ویسٹ، ٹینریز، ماربلنگ، ووڈ کٹنگ، لائیواسٹاک ویسٹ اور سالڈ ویسٹ یونٹس سے متعلق اصلاحاتی اقدامات اور انفورسمنٹ سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سال کے دوران ساڑھے چار ہزار جبکہ گزشتہ ایک ہفتے میں 550 آلودگی پھیلانے والے یونٹس مسمار کیے گئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں 125 سلاٹر ہاؤسز اور 1500 پولٹری فارمز کی میپنگ مکمل کر لی گئی ہے جبکہ ویسٹ جنریٹنگ یونٹس، ماحولیاتی گیپس، ایمشن لوڈ انوینٹری اور ویسٹ مینجمنٹ پلان بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔ سلاٹر ہاؤس ویسٹ مینجمنٹ اور فیٹ میلٹنگ کے ایس او پیز پر عملدرآمد جاری ہے جبکہ رہائشی علاقوں میں فیٹ میلٹنگ پر سخت پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کمیٹی نے ہسپتالوں کے طبی فضلے کی غیر مؤثر تلفی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسینیریٹرز نہ رکھنے والے ہسپتالوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ واضح کیا گیا کہ طبی فضلے کی محفوظ تلفی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے یونٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رکھنے، ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مسلسل نگرانی اور دوبارہ سرگرم ہونے کی صورت میں فوری کارروائی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر کباڑیوں کی رجسٹریشن، ویسٹ چین کی مکمل دستاویز بندی اور ویسٹ کو “ویسٹ ٹو ویلتھ” ماڈل کے تحت ری سائیکل کرکے صنعتی استعمال میں لانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے آلودگی کے ذرائع کی مکمل میپنگ اور جامع حکمت عملی مرتب کریں تاکہ سرکولر پلانز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ، واسا، صنعت، صحت، لائیو اسٹاک اور ای پی اے کے درمیان مشترکہ انفورسمنٹ مزید مؤثر بنائی جائے گی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یونین کونسل سطح پر گرین پنجاب سرٹیفکیشن پروگرام کے باقاعدہ آغاز، کلائمیٹ واچ اور فیلڈ انفورسمنٹ نظام کے نفاذ اور ہر ضلع میں میڈیا و سوشل میڈیا کے ذریعے ماحولیاتی آگاہی مہم تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آبپاشی محکمہ نالوں سے ساڑھے پانچ لاکھ پلاسٹک بیگز نکال چکا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں ڈیڑھ کروڑ جعلی اور نان بائیو ڈیگریڈیبل سگریٹ فلٹرز کو ماحول دوست طریقے سے تلف کیا گیا۔ اجلاس میں پلاسٹک بیگز کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے اور پلاسٹک فری برانڈز کو خصوصی ایوارڈز دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر لاہور میں صوبائی سطح کی ماحولیاتی کانفرنس منعقد کرنے کی منظوری دی گئی جس میں پنجاب بھر سے آن لائن شرکت بھی ممکن ہوگی۔ کمیٹی نے ماحولیاتی تحفظ، انفورسمنٹ اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے جامع اور مربوط روڈ میپ کی متفقہ منظوری دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو اس پر فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کی۔











